گناہ و ناجائز

ایزی پیسہ والوں کا پیسے بھیجنے پر ، ملنے والی کمیشن کے استعمال کا حکم

فتوی نمبر :
43257
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

ایزی پیسہ والوں کا پیسے بھیجنے پر ، ملنے والی کمیشن کے استعمال کا حکم

السلام علیکم! کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام حضرات اس سوال کے بارے میں کہ مثلاً میرا ایک ایزی پیسہ اکاونٹ ہے، میں اس میں 50000 روپے ڈالتا ہوں، تو میرے اکاونٹ میں 50000 روپے آتا ہے، اگر میں اپنے اکاونٹ یعنی اس 50000 روپے سے دوسرے اکاونٹ میں 10000 روپے بھیجتا ہوں، تو بینک کی طرف سے مجھے اس 10000 روپے بھیجنے پر میرے اکاونٹ میں 30 روپے کمیشن ملتا ہے، جبکہ میرے اکاونٹ 40000 کے بجائے 40030 بقایا آتا ہے، اور 10000 دوسرے اکاونٹ میں پورا جاتا ہے، مجھے ہر ٹرانزیکشن پر بینک کی طرف سے کمیشن ملتا ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

ایزی پیسہ اکاونٹ کے لئے کمپنی کی طرف سے صارف ( اکاونٹ ہولڈر) پر یہ شرط عائد نہ ہو کہ ایک مخصوص مدت تک ایک متعین مقدار میں اپنے اکاونٹ میں رقم جمع رکھنی ہے ، بلکہ بغیر کسی شرط کے محض ٹرانزیکشن (رقم ٹرانسفر کرنے وغیرہ )پر کمپنی بطورِ کمیشن یا بونس ،کچھ مخصوص رقم یا ایم بی ، کیش بیک وغیرہ دے تو اکاونٹ ہولڈر کے لئے اس سے فائدہ اٹھانے میں کوئی حرج نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

قال للہ تعالیٰ: ﴿وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾ (البقرة: 275)۔
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به اھ (5/ 166)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمدعباس مياں عابد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 43257کی تصدیق کریں
0     921
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات