خلع اور طلاق کی عدت کتنی ہوتی ہے ؟ قرآن اور سنت کی روشنی میں جواب دیں شکریہ۔
خلع اور طلاق دونوں کی عدت تین ماہواریاں ہیں، تاہم عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے اگر حیض نہ آتا ہو تو اسلامی مہینوں کے اعتبارسےتین مہینے پورے کرنے لازم ہیں جبکہ حاملہ خاتون کی عدت وضعِ حمل ہے۔
قال اللہ تبارک و تعالی : وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ(البقرہ :227)-
وفی التنزیل : وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِنْ نِسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ(الطلاق :4)-
وفی الھندیة: إذا طلق الرجل امرأته طلاقا بائنا أو رجعيا أو ثلاثا أو وقعت الفرقة بينهما بغير طلاق وهي حرة ممن تحيض فعدتها ثلاثة أقراء سواء كانت الحرة مسلمة أو كتابية كذا في السراج الوهاج.(1/526)-