السلام علیکم میں ایک ڈاکٹر ہوں اور ایک لیب چلاتی ہوں، جو ڈاکٹر اپنے مریض ٹیسٹ کے لیے بھجتے ہیں ان سے جو ہم فیس لیتے ہیں اس میں سے اپنا چالیس فیصد حصہ مانگتے ہیں، اگر ہم ان کو یہ حصہ دیتے ہیں تو وہ لالچ میں غیر ضروری ٹیسٹ کراتےہیں تاکہ ان کو زیادہ حصہ ملے، کیا ان کو 40 فیصد حصہ دینا جائز ہے ؟
صورت مسئولہ میں اگر ڈاکٹرز کو کمیشن دینے کی صورت میں وہ مریضوں کو غیر ضروری ٹیسٹ تجویز کرتے ہوں، اور مریض پر اضافی خرچہ ڈالا جاتا ہو تو یہ درست نہیں، بلکہ یہ اپنے پیشہ کے ساتھ خیانت اور مریضوں کے ساتھ ظلم ہے، لہذا ایسی صورت میں ڈاکٹرز کو کمیشن دینا مذکور گناہ میں ایک نوع معاونت کی وجہ سے شرعاً جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے ۔
كما في سنن الترمذي: عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم (إلی قوله) ثم قال: «من غش فليس منا» اھ (3/ 598)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): قال في التتارخانية: و في الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. و في الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام اھ (6/ 63)
و في اعلاء السنن: قیل الرشوة ما يعمطی لابطال الحق او لاحقاق الباطل . اما اذا اعطی لیتوصل به حق او ليدفع به عن نفسه ظلما فلا بأس به ( الى قوله ) الظلمة تمنع الناس من الاحتطاب في المروج الا بدفع شئي اليهم فالدفع الاخذ حرام لانه رشوة إلا عند الحاجة فیحمل الدافع دون الأخذ اھ (۱۵/ ۶۲) واللہ اعلم بالصواب
عورت کے پستان کو اور مرد کے عضو خاص کو بڑھانے کے لیے دواء یا کریم استعمال کرنے کا حکم
یونیکوڈ علاج و دواء 0Bone Marroz یعنی ایک انسان کی ہڈی کے اندر کا گودا ،کسی مریض کی Vein میں داخل کرنا
یونیکوڈ علاج و دواء 0ادارے کے ڈاکٹر کا مریضوں کو مفت ٹیسٹ کے بجائے پرائیویٹ ٹیسٹ کی ترغیب دینے کا حکم
یونیکوڈ علاج و دواء 0کمپنی کے ملازمین کا علاج معالجہ کے لیے میڈیکل انشورنس کارڈ کی سہولیت استعمال کرنا
یونیکوڈ علاج و دواء 0