گناہ و ناجائز

کمپنی کی طرف سے ملنے والے پٹرول کے بدلےکمپنی سے رقم لینے کاحکم

فتوی نمبر :
41835
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

کمپنی کی طرف سے ملنے والے پٹرول کے بدلےکمپنی سے رقم لینے کاحکم

کمپنی مجھے پیٹرول دیتی ہے ، کمپنی اور ذاتی استعمال کے لیے ، تو کیا میں پیٹرول کے بدلے پیسے لے سکتا ہوں ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کو کمپنی کی طرف سے دیے جانے والے پیٹرول کے بدلے رقم وصول کرنا جائز ہے ، مگر کمپنی کے دیے ہوئے پیٹرول کو بیچ کر رقم بنانا اور اپنے استعمال میں لانا جائز نہیں ۔

مأخَذُ الفَتوی

ففي مسند أحمد مخرجا: عن عمرو بن يثربي، قال: خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: «ألا ولا يحل لامرئ من مال أخيه شيء، إلا بطيب نفس منه» اھ (34/ 560)۔
و في المبسوط للسرخسي: اعلم أن الإجارة عقد على المنفعة بعوض هو مال والعقد على المنافع اھ (15/ 74)۔
و في التاتارخانية : الهبة هى التبرع بما ينتفع الموهوب لة لغة ، وتمليك العين بلا عوض شريعة . اھ ( التاتارخانية ۱۴/٤١٢)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
وقار احمد زید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 41835کی تصدیق کریں
0     2
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات