گناہ و ناجائز

سیمپلنگ کیلئے دی جانے والی اشیاء آگے فروخت کرنا

فتوی نمبر :
41696
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

سیمپلنگ کیلئے دی جانے والی اشیاء آگے فروخت کرنا

کیا ایسی چیز جو کہ NOT FOR SALE ہو ، اور سیمپلنگ کے لئے دی جائے، خرید کر آگے بیچنا جائز ہے ؟ اور اس کی رقم کیا حلال ہو گی؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

کسی فرد یا کمپنی کی طرف سے دیا جانے ولا سیمپل اگر با قاعدہ ملکیۃً نہ دیا جاتا ہو ، بلکہ فقط اس چیز کے خریداروں کو مفت دینے کے لئے دیا جاتا ہو ، تو ایسی صورت میں اس سیمپل کی خرید و فروخت خیانت کے زمرے میں داخل ہے، جو شرعاً جائز نہیں، اور اس سے حاصل شدہ آمدنی بھی حلال نہ ہو گی ، اور اگر یہ سیمپل ملکیۃً بھی دیا جاتا ہو، تب بھی چونکہ قانونی طور پر اس کی خرید و فروخت ممنوع اور کمپنی کے منشا کے خلاف ہے، لہذا اسے ذریعۂ معاش بنانے سے بچنا چاہیئے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في سنن أبي داود: 3594 - حدثنا سليمان بن داود المهري، أخبرنا ابن وهب، أخبرني سليمان بن بلال، ح وحدثنا أحمد بن عبد الواحد الدمشقي، حدثنا مروان يعني ابن محمد، حدثنا سليمان بن بلال، أو عبد العزيز بن محمد شك الشيخ عن كثير بن زيد، عن الوليد بن رباح، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «الصلح جائز بين المسلمين» زاد أحمد، «إلا صلحا أحل حراما، أو حرم حلالا» وزاد سليمان بن داود، وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «المسلمون على شروطهم» اھ (3/ 304)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
جنید الرحمن سکھروی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 41696کی تصدیق کریں
0     440
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات