گناہ و ناجائز

منعِ حمل کیلئے آپریشن کروانے کا حکم

فتوی نمبر :
41377
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

منعِ حمل کیلئے آپریشن کروانے کا حکم

کیا فیملی مکمل ہونے کے بعد اولاد نہ ہو، اس بناء پر آپریشن کروانا جائز ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مسئولہ صورت میں بغیر کسی شرعی عذر کے اس قسم کا آپریشن کروا کر بچوں کی پیدائش کی صلاحیت کو مکمل طور پر منقطع کر دینا شرعاً جائز نہیں، ہاں! اگر واقعی کوئی شرعی عذر ہو ، جیسے بیوی کی کمزوری، بیماری یا بچوں کے درمیان مناسب وقفہ و غیرہ، تو ایسی صورت میں مانع ِحمل کی کوئی بھی عارضی تدبیر اختیار کی جاسکتی ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في التنزيل العزيز {وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلَاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَإِيَّاكُمْ إِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْئًا كَبِيرًا } [الإسراء: 31]
و في كنز العمال للمتقي الهندي: 31403 عن أبي هريرة قال : لتؤخذن المرأة فليبرقن بطنها ثم ليؤخذن ما في الرحم فلينبذن مخافة الولد اھ (9/ 421)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
جنید الرحمن سکھروی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 41377کی تصدیق کریں
0     416
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات