کیا فیملی مکمل ہونے کے بعد اولاد نہ ہو، اس بناء پر آپریشن کروانا جائز ہے ؟
مسئولہ صورت میں بغیر کسی شرعی عذر کے اس قسم کا آپریشن کروا کر بچوں کی پیدائش کی صلاحیت کو مکمل طور پر منقطع کر دینا شرعاً جائز نہیں، ہاں! اگر واقعی کوئی شرعی عذر ہو ، جیسے بیوی کی کمزوری، بیماری یا بچوں کے درمیان مناسب وقفہ و غیرہ، تو ایسی صورت میں مانع ِحمل کی کوئی بھی عارضی تدبیر اختیار کی جاسکتی ہے۔
كما في التنزيل العزيز {وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلَاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَإِيَّاكُمْ إِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْئًا كَبِيرًا } [الإسراء: 31]
و في كنز العمال للمتقي الهندي: 31403 عن أبي هريرة قال : لتؤخذن المرأة فليبرقن بطنها ثم ليؤخذن ما في الرحم فلينبذن مخافة الولد اھ (9/ 421)-