السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ !
اگر کوئی بندہ کسی دوسرے بندہ کی عزت لوٹ لے ، اس کی شرمگاہ کو زبردستی چیر دے، یعنی نازیبا حرکت کرے، اور وہ اس وقت بے بس ہو، تو کیا بعد میں بدلہ لینے کی غرض سے اس کا قتل جائز ہے ؟ اسلام کے احکام کیا ہیں اس بارے میں؟ براہِ کرم راہ نمائی فرمادیں۔
اگر کوئی شخص کسی کے ساتھ زنا یا لواطت کا ارتکاب کرے تو اس سے وہ سخت گناہ گار ہو جاتا ہے ، اگر اسلامی قانون نافذ العمل ہو تو ثبوتِ جرم کے بعد اس شخص پر سے سخت سے سخت سزا جاری کی جائے گی، لیکن جس کے ساتھ اس بے ہودہ عمل کا ارتکاب ہوا ہے، خود اس کے لئے بعد میں اسے قتل کرنے کی شرعاً اجازت نہیں۔
كما في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): قلت: وقد ظهر لي في التوفيق وجه آخر، وهو أن الشرط المذكور إنما هو فيما إذا وجد رجلا مع امرأة لا تحل له قبل أن يزني بها فهذا لا يحل قتله إذا علم أنه ينزجر بغير القتل سواء كانت أجنبية عن الواجد أو زوجة له أو محرما منه. أما إذا وجده يزني بها فله قتله مطلقا، ولذا قيد في المنية بقوله وهو يزني، (4/ 63)۔