گناہ و ناجائز

مخصوص ڈاکٹروں کے نام پر بنی مخصوص ادویات کا مارکیٹ میں فروخت کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
41131
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

مخصوص ڈاکٹروں کے نام پر بنی مخصوص ادویات کا مارکیٹ میں فروخت کرنے کا حکم

السلام علیکم !
میں ایک میڈیسن کمپنی میں کمپیوٹر پر بل بناتا ہوں ، کمپنی کی طرف سے مخصوص دوائی پر مخصوص ڈاکٹر کے لئے ایکسٹرا ڈسکاؤنٹ ہوتا ہے، حالانکہ یہ دوائی عام مارکیٹ میں بغیر ڈسکاونٹ کے فروخت ہوتی ہے ، اگر بل ڈاکٹر کے نام پر ایکسٹرا ڈسکاونٹ میں بن جائے اور دوائی عام مارکیٹ میں بغیر ڈسکاونٹ کے فروخت ہو جائے اور ڈسکاونٹ کے پیسے اپنے ذاتی فائدے یا کسی کار خیر میں استعمال کریں تو یہ کیسا ہے ؟ کمپنی اور ڈاکٹر کی طرف سے کوئی مسئلہ نہیں ہے کیو نکہ یہ ڈسکاونٹ کمپنی کی طرف ہر حال میں ہوتا ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کے لئے کمپنی مالکان کے علم میں لائے بغیر مخصوص ڈاکٹروں کے نام پر ادویات کا بل بنا کر انہیں ان ڈاکٹروں کو فروخت کرنے کے بجائے عام مارکیٹ میں فروخت کرنا، اور کمپنی کی طرف سے ملنے والا ڈسکاؤنٹ اپنے استعمال میں لانا یا کسی اور مصرف میں خرچ کرنا، جھوٹ اور دھوکہ دہی پر مبنی ہونے کی وجہ سے شرعاً جائز نہیں، جس سے سائل کو اجتناب لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

لما في التنزيل العزيز {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا } [النساء: 29]۔
و في مشكاة المصابيح: وعن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه» . رواه البيهقي في شعب الإيمان والدارقطني في المجتبى اھ (2/ 889) ۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
جنید الرحمن سکھروی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 41131کی تصدیق کریں
0     367
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات