آج کل آن لائن ویب سائٹ " فائور " بہت مشہور ہے، جس پر کلائنٹس کے ڈیٹے ہوتے ہیں، اور آئی ٹی والے لوگ کام کرتے ہیں، سوال یہ ہے کہ " فائور " پر جو کام آپ کو ملتا ہے، وہ اس کا شیئرز رکھتی ہے، اور یہ ویب سائٹ ایک اسرائیلی بندے کی ہے، اور اس ویب سائٹ کا ہیڈ کوارٹر بھی اسرائیل میں ہے ، تو کیا اس پر کام کرنا جائز ہے ؟
مذکور ویب سائٹ پر کلائنٹ کو دیا جانے والا کام اگر غیر شرعی نہ ہو، نیز اسے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بھی استعمال نہ کیا جاتا ہو، تو ایسی ویب سائٹ کے ذریعہ پیسے کمانے کی شرعاً گنجائش ہے۔
كما في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): مطلب: شرائط البيع أنواع أربعة وذكر في البحر أن شرائط البيع أربعة أنواع: شرط انعقاد ونفاذ وصحة ولزوم. فالأول أربعة أنواع: في العاقد، و في نفس العقد، و في مكانه، و في المعقود عليه، فشرائط العاقد اثنان: العقل والعدد، فلا ينعقد بيع مجنون وصبي لا يعقل، ولا وكيل من الجانبين، إلا في الأب ووصيه والقاضي، وشراء العبد نفسه من مولاه بأمره، والرسول من الجانبين. ولا يشترط فيه البلوغ ولا الحرية، فيصح بيع الصبي أو العبد لنفسه موقوفا ولغيره نافذا، ولا الإسلام والنطق والصحو. (4/ 504)-