گناہ و ناجائز

یوٹیوب چینل بناکر ویڈیو اپلوڈ کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
40594
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

یوٹیوب چینل بناکر ویڈیو اپلوڈ کرنے کا حکم

السلام علیکم مفتی صاحب ! مفتی صاحب !
مجھے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں آپ کی قیمتی رہنمائی کی ضرورت ہے ؟ میں آٹو موبائیل انڈسٹری (گاڑیوں) سے متعلق اپنا یوٹیوب چینل شروع کرنا چاہتا ہوں ، جس میں میں مختلف گاڑیوں کے جائزے ، موازنہ ، تفصیلات اور تازہ ترین معلومات فراہم کروں گا، یوٹیوب چینل پر ویڈیوز میں ماہرین کے انٹرویوز بھی شامل ہوں گے ، تاہم ویڈیوز میں موسیقی شامل نہیں ہو گی ، خواتین کی تصویر یا ویڈیوز سے مکمل طور پر گریز کیا جائے گا، اب ، شرعی نقطۂ نظر سے کچھ سوالات میرے ذہن میں ہیں۔ مجھے مندرجہ ذیل سوالات پر آپ کا تفصیلی تبصرہ درکار ہیں۔
سوال نمبر ۱: کیا اس چینل کو شروع کرنے میں کوئی شرعی پابندی ہے ؟
سوال نمبر 2: اس چینل کے ذریعے کمائی کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟
سوال نمبر 3: ویڈیو ایڈیٹنگ ، لوگو ڈیزائننگ اور پرومو ویڈیو کے لئے مجھے مہنگے ٹونز (سافٹ ویئر) کی ضرورت ہے کیا اس کا کریک ورژن (بغیر لائسنس والا ورژن) استعمال کرنا جائز ہے ؟
سوال نمبر 4: اگر چہ ، میں خود مفت آپریٹنگ سسٹم اور دوسرے مفت سافٹ ویئر استعمال کرتا ہوں ،جو قانونی طور پر مفت ہیں، لیکن اگر میں کسی شخص کو اپنے چینل کی پرومو ویڈیو ( اشتہار) بنانے کے لئے چند پیسوں کے عوض کام دیتا ہوں ، تو وہ بغیر لائسنس والے سافٹ وئیرز کا استعمال کر کے ہی بنائے گا؟ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ بیشتر پاکستانی کریک (غیر رجسٹرڈ) ونڈوز اور دیگر سافٹ ویر استعمال کرتے ہیں ؟ تو اس سلسلے میں اسلام کی تعلیمات کیا ہوں گی ؟
سوال نمبر 6 : یوٹیوب پر سبکرائبرز خریدنا جائز ہے؟ جزاک اللہ خیرا

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

۱، ۲۔ اپلوڈ کردہ ویڈیوز اور یوٹیوب کی جانب سے ان پر لگائے جانے والے اشتہارات اگر غیر شرعی امور ( فخش اور حرام پرو ڈکٹ) پر مشتمل نہ ہوں، تو ایسا یو ٹیوب چینل بنانے اور اس سے حاصل شدہ آمدنی کو استعمال میں لانے کی گنجائش ہے، ور نہ غیر شرعی ویڈیوز اپلوڈ کرنا اور ان پر غیر شرعی اشتہارات چلا کر پیسے کمانا ( خواہ کسی اسلامی چینل کے ذریعہ ہی کیوں نہ ہوں ) شرعاً جائز نہیں ، اس سے احتراز لازم ہے۔
۳، ۴۔ شخصی ضرورت کی حد تک اس قسم کے سافٹ ویئر کے استعمال کی گنجائش ہے۔
۵۔ اگر چینل کا مقصد اور کام درست ہو ، تو لوگوں کو پیسے دیکر چینل سبسکرائب کروانے میں تو شرعاً کوئی قباحت معلوم نہیں ہوتی، البتہ اگر یوٹیوب انتظامیہ کی طرف سے اس کی اجازت نہ ہو ، تو پھر اس عمل سے اجتناب کرنا چاہیئے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في أحكام القرآن للجصاص: وقوله تعالى ولا تعاونوا على الإثم والعدوان نهي عن معاونة غيرنا على معاصي الله تعالى اھ (3/ 296)۔
و في الدر المختار: (لا تصح الإجارة لعسب التيس) وهو نزوه على الإناث (و) لا (لأجل المعاصي مثل الغناء والنوح والملاهي) اھ (6/ 55)۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله والملاهي) كالمزامير والطبل، وإذا كان الطبل لغير اللهو فلا بأس به كطبل الغزاة والعرس لما في الأجناس: ولا بأس أن يكون ليلة العرس دف يضرب به ليعلن به النكاح. (6/ 55)۔
كما في بحوث في قضايا فقهية معاصرة: أن من سبق إلى ابتكار شيء جديد سواء كان ماديا أو معنويا، فلا شك أنه أحق من غيره بإنتاجه لانتفاعه بنفسه، وإخراجه إلى السوق من أجل اكتساب الأرباح، وذلك لما روى أبو داود عن أسمر بن مضرس رضي الله عنه قال: أتيت النبي صلى الله عليه وسلم فبايعته فقال: ((من سبق إلى ما لم يسبقه مسلم فهو له)) .
وإن كان العلامة المناوي رحمه الله رجح أن هذا الحديث وارد في سياق إحياء الموات، ولكنه نقل عن بعض العلماء أنه يشمل كل عين وبئر ومعدن، ومن سبق لشيء منها فهي له ، ولا شك أن العبرة لعموم اللفظ لا الخصوص السبب. (ص: 122)۔
كما في مشكاة المصابيح: وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يومئذ يوم حنين: «من قتل كافرا فله سلبه» فقتل أبو طلحة يومئذ عشرين رجلا وأخذ أسلابهم. رواه الدارمي اھ (2/ 1171)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
جنید الرحمن سکھروی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 40594کی تصدیق کریں
0     1739
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات