السلام علیکم!
میرا سوال یہ ہے کہ میں دبئی میں ہوتا ہوں ، جاب کرتا ہوں، اور شادی شدہ ہوں ، ایک سال سے زیادہ ہو گیا ہے، اس لئے فطری خواہش پوری نہیں ہو سکتی، کبھی کبھی مشت زنی کا دل بھی کرتا ہے، کیا ادھر کسی لڑکی کے ساتھ اس کو اجرت دےکر مباشرت کر سکتا ہوں؟ برائے مہربانی جواب دیجیے۔ شکریہ!
سائل کے لیے کسی لڑکی کو اجرت دےکر اس سے اپنی خواہش پوری کرنا تو صریح حرام کاری ہونے کی وجہ سے درست نہیں،بلکہ شرعا ناجائز اور حرام ہے ، اگر شرعی قوانین نافذ العمل ہوں تو ایسے شخص کو قانون کے مطابق قرار واقعی سزا ہوتی ، لہذا اس طرح کی حرام کاری سے تو بہر حال اجتناب لازم ہے ، تاہم سائل جب تک ملازمت کی وجہ سے اپنے گھر سے دور ہے، تب تک اسے چاہیے کہ اپنی خواہشات کنٹرول کرنے کے لیے گرم غذائیں کھانے سے پر ہیز کرے، اور روزے رکھنے کا اہتمام کرے۔
قال الله تبارك وتعالیٰ: {وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَا إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا } [الإسراء: 32]
وقوله عز وجل : ({فَمَنِ ابْتَغَى وَرَاءَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْعَادُونَ } [المؤمنون: 7]
و في تفسير ابن كثير: عن أبي بكر بن أبي مريم عن الهيثم بن مالك الطائي، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «ما من ذنب بعد الشرك أعظم عند الله من نطفة وضعها رجل في رحم لا يحل له» . (5/ 67)
و في الدر المختار: والزنا الموجب للحد (وطء) وهو إدخال قدر حشفة من ذكر (مكلف ناطق طائع في قبل مشتهاة خال عن ملكه) أي ملك الواطئ (وشبهته) اھ (4/ 4)