گناہ و ناجائز

گھروں کے اندر تراویح میں لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کا حکم

فتوی نمبر :
40445
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

گھروں کے اندر تراویح میں لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کا حکم

السلام علیکم!
یہاں ایک رجحان چل رہاہے، کچھ لوگ لاؤد اسپیکر لگاتے ہیں، اپنے لان میں یا گھر میں , یہاں تک کہ اندر ایک چھوٹے سے کمرے میں، جب وہ تراویح کی نماز ادا کرتے ہیں ,اور یہ آوز بہت اونچی ہوتی ہے، یہاں تک کہ لوگ بہت دور تک اسے سن سکتے ہیں، میرے علاقے میں اس جیسے دو کیسز ہیں۔
(۱)۔ پانچ یا چھ لوگوں کا ایک گروپ اپنے گھر کے اندر ایک چھوٹے سے کمرے میں تراویح کی نماز ادا کرتے ہیں، اور اسی طرح کا دوسرا مسئلہ ہے کہ تقریباً دس آدمیوں کا گروپ اپنے لان میں تراویح کی نماز ادا کرتے ہیں، ان کے لاؤد اسپیکروں کی آواز تمام پڑوسی سن سکتے ہیں، میں محسوس کرتاہوں کہ یہ مسئلہ ایساہی ہے جیسا کہ کچھ لوگ غریبوں کی مدد کریں اور تصویریں بنائیں، اور سیلفیاں بنائیں، اور سوشل میڈیا پر پوسٹ کردیں، اور دکھائیں کہ ہم لوگ کتنے اچھے اور بے لوث ہیں، میں سمجھتاہوں کہ اگر پانچ سے دس آدمی امام کے پیچھے کھڑے ہوں اور بغیر لاؤڈ اسپیکر کے آسانی سے کر سکتے ہیں، لاؤڈ اسپیکر کا استعمال دکھلاوے اور ریاکاری کےسوا کیا مقصد ہوسکتاہے، برائے مہربانی مجھے آیات، احادیث اور دوسری کتابوں سے حوالہ دیں کہ لوگ درست نہیں کر رہے ہیں، میں سمجھتاہوں تمام پڑوسی جس میں بچے، بزرگ شامل ہیں، اور وہ ولوگ جو سونا چاہتے ہیں، وہ لوگ جو قرآن کی تلاوت کرنا چاہتے ہیں، وہ لوگ جوبیمار ہیں، مجبوراً ان کی آوازیں سنتے ہیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ لاؤڈ اسپیکر کا استعمال بوقتِ ضرورت جائز اور درست ہے مگر اس کی آواز اتنی ہونی چاہیئے کہ جس سے مقتدیوں تک آواز پہنچ سکے، اگر لاؤڈ اسپیکر کی آواز باہر ہوجاتی ہو جس کی وجہ سے اڑوس پڑوس کو شکایت ہو یا بزرگ اور مریض حضرات کو تکلیف ہوتی ہو تو پھر ایسی صورت میں یہ گناہ ہے مگر اس کو ریاکاری اور دکھلاوے سے جوڑنا بھی درست نہیں، ممکن ہے ان حضرات کی نیت ریاکاری کی نہ ہو اس لئےان سے فقط مائیک کی آواز کم کرنے اور بقدرِ ضرورت کرنے کی بات کرنی چاہیئے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی صحیح البخاری: ابو نعیم حدّثنا عن عامر قال: سمعت عبد اللہ بن عمر یقول قال النبیﷺ ’’المسلم من سلم المسلمون من لسانه ویده والمهاجر من هجر ما نهی اللہ عنه‘‘ اھ (۱/ ۱۰۲)-
و فی الهندیة لا یقرأ جهرا عند المشتغلین بالأعمال ومن حرمة القرآن أن لا یقرأ فی الأسواق، وفی موضع اللغو کذا فی القنیة اھ (۵/ ۳۱۶)-
و فی البحر الرائق: واکثر المشایخ علی أن الصحیح أن الجهر أن یسمع غیره والمخافتة أن یسمع نفسه، وهو قول الهندوانی. (۱/ ۳۵۶)-
وفی رسائل اللکنوی: نعم الجهر المفرط ممنوع شرعا، وكذا الجهر غير المفرط إذا كان فيه إيذاء لأحد من نائم أو مصل، أو حصلت فيه شبهة رياء أو لوحظت فيه خصوصيات غير مشروعة الخ (۳/ ۳۴) -

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 40445کی تصدیق کریں
0     652
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات