السلام علیکم! مجھے ایک فتویٰ دے دیں، براہِ کرم امام صاحب مسجد میں مغرب کی نماز پڑھا رہے تھے، پہلی رکعت میں سورۃ ’’یس‘‘ پڑھی آیت نمبر تئیس سے شروع کر کے تقریباً دس سے بارہ آیت پڑھیں، اب امام صاحب کو ایک متشابہ لگا، اور آیات بھول گئے، تین بار آیات پڑھی، جو درست نہ پڑھی گئی،جب تیسری بار آیت ختم کی ان کے چپ ہونے سے پہلے پیچھے سے کسی حافظ صاحب نے جو امام کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے، صحیح لقمہ دے دیا، امام صاحب نے فوراً سن کر لقمہ لے لیا آیت پڑھی اور رکعت کروادی، کیا سب کی نماز ہوگئی ؟ کیا فرض میں امام کو لقمہ دیا جاتا سکتا ہے؟
جی ہاں! صورت مسئولہ میں امام اور مقتدیوں کی نماز ادا ہو گئی ہے،جبکہ فرض نماز میں اگرچہ بوقت ضرورت لقمہ دینا جائز ہے، تاہم امام کو چاہیے کہ مقدار فرض قرأت کر لینے کے بعد اگر قرأت کرتے ہوئے بھول جائے، یا غلط ہو جائے، تو فوراً رکوع کر لے، مقتدی کو لقمہ دینے کا موقع نہ دے۔
ففی الفتاوى الهندية: وإن فتح على إمامه لم تفسد ثم قيل: ينوي الفاتح بالفتح على إمامه التلاوة والصحيح أن ينوي الفتح على إمامه دون القراءة قالوا هذا إذا أرتج عليه قبل أن يقرأ قدر ما تجوز به الصلاة أو بعدما قرأ ولم يتحول إلى آية أخرى وأما إذا قرأ أو تحول ففتح عليه تفسد صلاة الفاتح والصحيح أنها لا تفسد صلاة الفاتح بكل حال ولا صلاة الإمام لو أخذ منه على الصحيح. هكذا في الكافي. ويكره للمقتدي أن يفتح على إمامه من ساعته لجواز أن يتذكر من ساعته فيصير قارئا خلف الإمام من غير حاجة. كذا في محيط السرخسي ولا ينبغي للإمام أن يلجئهم إلى الفتح؛ لأنه يلجئهم إلى القراءة خلفه وإنه مكروه بل يركع إن قرأ قدر ما تجوز به الصلاة وإلا ينتقل إلى آية أخرى. كذا في الكافي وتفسير الإلجاء أن يردد الآية أو يقف ساكتاكذا في النهاية. اھ (1/ 99) واللہ أعلم بالصواب!