گناہ و ناجائز

انسانی شکلوں(تصاویر)کو بگاڑکرسوشل میڈیاپرشئیرکرنا

فتوی نمبر :
40025
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

انسانی شکلوں(تصاویر)کو بگاڑکرسوشل میڈیاپرشئیرکرنا

آج کل مختلف لوگوں کی تصاویر ایڈیٹ کرکے چہرے بگاڑ کر اور انسانی صورت کو جانور بناکر سوشل میڈیا پر شیئر کیا جاتا ہے ایسا کرنا کیسا ہے؟ برائے کرم جواب عنایت فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

انسانوں کی شکلیں بگاڑ کر جانوروں کی شکل و صورت پر ان کی تصاویر بناکر، سوشل میڈیا پر شیئر کرنے میں چونکہ انسانوں کی تذلیل اور توہین ہوتی ہے جو کہ بڑا گناہ ہے، اس لئے اس سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی احکام القرآن للجصاص: تحت قولہ تعالیٰ ﴿یا ایہا الذین اٰمنوا لا یسخر قوم من قوم﴾ نہی اللہ بہذہ الاٰیۃ عن عیب من لا یسحق ان یعاب علی وجہ الاحتقار لہ لان ذلک ہو معنی السخریۃ واخبر انہ وان کان ارفع حالا منہ فی الدنیا فعسی ان یکون المسخور منہ خیرا عند اللہ۔ اھـ (ج۳، ص۴۰۴)
وفی المرقاۃ المفاتیح تحت قولہ ﷺ: (اشد الناس عذابا عند اللہ المصورون) قال الخطابی: المصور ہو الذی یصور اشکال الحیوان فیحکیہا بتخطیط لہا وتشکیل، فاما الذی ینقش اشکال الشجرۃ، ویعمل التداویر والخواتیم ونحوہا، فانی ارجو ان لا یدخل فی ہذا الوعید، وان کان جملۃ ہذا الباب مکروہا وداخلًا فیما یلہی ویشغل بما لا یعنی۔ اھـ (ج۸، ص۲۷۳)
وفی الہدایۃ:ولا یجوز بیع شعور الانسان ولا الانتفاع بہ، لان الادمی مکرم لا مبتذلا فلا یجوز ان یکون شیئ من اجزائہ مہانا مبتذلا۔ اھـ (ج۵، ص۱۰۶)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد شاہد عظمت عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 40025کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات