سیدہ اپنے گھر میں اکیلی رہتی ہے اور اس کا شوہر سعودی عرب میں کام کرتا ہے،قریب ہی میں سیدہ کے ساس وسسر بھی رہتے ہیں،کچھ دن پہلے سیدہ نے اپنے شوہر سے شکایت کی کہ تمہارے والد مجھے بری نظر سےدیکھتے ہیں تو شوہر نے اپنی والدہ سے اس بات کا ذکر کیا اور کہا کہ والد کو سمجھا دیں کہ ایسا نہ کریں،والدہ نے جواب دیا کہ تمہارے والد شراب پیتے ہیں تو ہوسکتا ہے کہ کوئی غلط حرکت کی گئی ہو،لیکن میں ان کو سمجھا دوں گی کہ ایسا نہ کریں،پھر ایک لمبے عرصے کے بعد شوہر کو حرمتِ مصاہرت کی معلومات ہوئیں تو اس نے اپنی بیوی سے پوچھا کہ اس کی غیر حاضری میں کوئی حرکت سسر کی طرف سے دوبارہ تو نہیں ہوئی؟ معلوم کرنے پر بیوی نے بتایا کہ سسر نے اس کے ساتھ زنا کیا ہے،شوہر کے اپنے والد سے پوچھنے پر والد نے کہا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے،وہ اس پر قسم بھی کھانے کو تیار ہیں،جبکہ بیوی نے قرآن کی قسم کھا کر یہ بیان دیا کہ اس کے ساتھ زنا ہوا ہے،لیکن اس کا کوئی بھی گواہ نہیں ہے،اس بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟
مسماۃ سیدہ کے بیان پر اگر گواہ موجود ہوں یا گواہ تو موجود نہ ہوں،مگر اس کا سسر اقرارِ جرم کرتاہو،یاسیدہ کا شوہر باپ کے فسق کی وجہ سے سیدہ کی تصدیق کرتاہو،تو ایسی صورت میں سیدہ اپنے شوہر پر حرمتِ مصاہرت کی وجہ سے ہمیشہ کیلئے حرام ہوچکی ہے،ورنہ صرف سیدہ کے الزام سے حرمتِ مصاہرت ثابت نہ ہوگی،اور دونوں حسبِ سابق میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کرسکتے ہیں۔
کمافی الفتاوی الھندیة: رجل تزوج امرأة على أنها عذراء فلما أراد وقاعها وجدها قد افتضت فقال لها: من افتضك؟ . فقالت: أبوك إن صدقها الزوج؛ بانت منه ولا مهر لها وإن كذبها فهي امرأته، كذا في الظهيرية. لو ادعت المرأة أن مس ابن الزوج إياها كان عن شهوة لم تصدق والقول قول ابن الزوج، كذا في السراج الوهاج. رجل قبل امرأة أبيه بشهوة أو قبل الأب امرأة ابنه بشهوة وهي مكرهة وأنكر الزوج أن يكون بشهوة فالقول قول الزوج، وإن صدقه الزوج وقعت الفرقة ويجب المهر على الزوج ويرجع بذلك على الذي فعل إن تعمد الفاعل الفساد، وإن لم يتعمد؛ لا يرجع اھ(1/276)۔