میں حکومت بلوچستان کے تحت ایک نیم سرکاری ادارے میں بطور لیکچرر اسلامیات عرصہ چھ سال سے کام کر رہا ہوں اب ادارے میں ایک نئے پرنسپل تعنیات ہو ئے ہیں جس نے سب لیکچرزر کے لیے پینٹ شرٹ اور ٹائی لازم کیا ہے تو کیا ایسی صورت میں پینٹ شرٹ پہننا درست ہے؟
مذکور پرنسپل کو چاہیےکہ ملکی اور قومی لباس ( شلوار، قمیص) کو اپنے ادارے میں برقرار رکھے، کسی غیر قوم کے مخصوص رنگ اور یونیفارم کو ادارے کے اساتذہ کے لیے لازم قرار نہ دے، کیونکہ زندہ قومیں اپنی تہذیب اور تقافت کو قدر و احترام کی نظروں سے دیکھا کرتی ہیں، لہٰذا بلاضرورت پینٹ شرٹ کو یونیفارم قرار دینے سے احتراز کرنا چاہیے، تاہم کوشش کے باوجود بھی مذکور پرنسپل پینٹ، شرٹ کو یونیفارم قرار دے تو ایسی صورت میں پینٹ، شرٹ پہننا درست ہے، مگر اس کا اہتمام ہونا چاہیے پانچے ٹخنوں سے اوپر ہوں، اور پینٹ کی بناوٹ ایسی ہو جس میں اعضاء کی ساخت نمایاں نہ ہو، یعنی کشادہ ہو۔
وفی المشکاۃ:عن أم سلمۃؓ قالت أحب الثیاب إلی رسول اللہ – صلی اللہ علیہ و سلم- القمیص۔اھـ ( ۲/ ۳۷۴)
وفی مرقاۃ المفاتیح: ( قال رسول اللہ – صلی اللہ علیہ و سلم – من تشبہ بقومٍ) أی من شبہ نفسَہ بالکفار مثلاً فی اللباس و غیرہ، أو بالفساق ، أو الفجار، أو بأھل التصوف الصلحاء و الأبرار ( فھو منھم) أی: فی الإثم و الخیر۔ اھـ( ۸/ ۱۵۵)۔
فی الفقہ الإسلامی: و عن جابرؓ أن النبی– صلی اللہ علیہ و سلم – قال: إذا کان الثوب واسعًا، فالتحف بہ، و إذا کان ضیقًا فائتزربہ۔ و یحب ستر العورۃ بما لایصیف البشرۃ من ثوب صفیق أو جلد أو ورق فإن ستر بما یظھر منہ لون البشرۃ من ثوب رقیق لم یجز لأن الستر لایحصل بذالک۔اھـ
و فی أحکام القرآن للجصاص: ( قولہ تعالیٰ: یابنی آدم قد أنزلنا علیکم لباساً یواری الخ) قیل فیہ إنہ العمل الصالح، عن إبن عباسؓ و سماہ لباساً لأنہ یقی العقابَ۔ اہـ( ۳/ ۳۰) واللہ اعلم باالصواب
کیا مرد کے لیے ہر وقت شلوار قمیص پہننا اور عورت کے لیے حجاب کرنا لازم ہے؟
یونیکوڈ لباس کے آداب و احکام 0