میری تنخواہ تقریباً ایک لاکھ روپے سے کچھ زیادہ ہے مگر معاشرے کی مہنگائی کی وجہ سے میں کچھ بھی مشکل وقت کیلئے بچا نہیں پاتا، جس کی وجہ سے اکثر میری بیوی مجھ سے لڑتی ہے، اگرچہ کچھ خرچ میں اس کو نکال کر اس کے ذاتی خرچ کیلئے دیتا ہوں مگر میں نے کسی سے سنا تھا کہ ’’عورت کے ہاتھ میں پورا خرچ نہیں دینا چاہئے، اس سے اللہ نے منع کیا ہے‘‘۔ اللہ مجھے معاف کرے مگر اس کی کیا حقیقت ہے اور اس سے کیا مراد ہے؟ اور کیا میں سب کچھ کماکر اپنی بیوی کے ہاتھ میں اسلام کی تعلیمات کے مطابق نہیں رکھ سکتا تاکہ وہ میرے گھر کا نظام چلائے اور اس کی دیکھ بھال کرے؟ سوائے اس کے کہ کچھ خرچ اپنی جیب میں سواری اور لوگوں سے ملنے جلنے کی خاطر رکھوں؟ میرا دنیا میں اپنی بیوی کے سوا کوئی نہیں، ماں باپ بہت پہلے وفات پاگئے تھے اس لئے ان مسائل میں ہدایات دینے والا اللہ والوں کے سوا کوئی نہیں، مہربانی کرکے اسلام کی روشنی میں اور تاریخ میں جواب واضح کردیں۔ شکریہ والسلام
سائل نے جو یہ لکھا ہے کہ ’’عورت کے ہاتھ میں پورا خرچ نہیں دینا چاہئے، اس سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے‘‘۔ اس کی شرعاً کوئی حقیقت نہیں، بلکہ من گھڑت باتوں میں سے ہے۔
تاہم اگر کوئی عورت بااعتماد ہو، اس طور پر کہ وہ گھر کے نظام اور اس کی دیکھ بھال کو اچھی طرح اور پیسے کو احتیاط کے ساتھ مصارف پر خرچ کرنا جانتی ہو اور اس میں کسی قسم کی خیانت اور اسراف وغیرہ سے بھی کام نہ لیتی ہو تو شوہر کا اپنا خرچ الگ کرکے باقی تنخواہ اپنی بیوی کے حوالہ کرنے میں بھی شرعاً کوئی حرج نہیں۔
فی الصحیح للإمام البخاری مع لمعات التنقیح للعلامۃ المحدث عبد الحق ابن سیف الدین الدھلوی الحنفیؒ: عن مالک بن أوس بن الحدثان قال: (إلی قول عمرؓ فی حدیث طویل) قال عمر بن الخطاب: إن اللہ قد خص رسولہ ﷺ فی ھذا الفیء بشیء لم یعطہ أحدا غیرہ. ثم قرأ ﴿وما أفاء اللہ علی رسولہ منھم﴾ إلی قولہ: ﴿قدیر﴾ [الحشر:٦] فکانت ھذہ خالصة لرسول اللہ ﷺ، ینفق علی أھلہ نفقۃ سنتھم من ھذا المال، ثم یأخذ ما بقی فیجعلہ مجعل مال اللہ. متفق علیہ) اھـ وفی لمعات التنقیح تحت الحدیث: قولہ: (نفقۃ سنتھم) وھذا لا یعارض حدیث: (کان لا یدخر شیئا لغد) لأن الادخار لنفسہ وھذا لغیرہ من العیال، وکان ﷺ یعطی نساءہ نفقۃ سنۃ أحیانًا۔ اھـ (ج٧، ص١٣٤ باب الفیء) واللہ اعلم بالصواب
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے گھر والوں کا ایک فقیر کی مدد کرنے والے واقعہ کی تحقیق
یونیکوڈ من گھڑت احادیث 0