گناہ و ناجائز

صارف کو ایزی پیسہ کے ذریعہ ملنے والی سہولیات کاحکم

فتوی نمبر :
38408
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

صارف کو ایزی پیسہ کے ذریعہ ملنے والی سہولیات کاحکم

السلام علیکم! اللہ سے امید ہے کہ آپ صحت و عافیت سے ہونگے سوال ایزی پیسہ اکاؤنٹ سے متعلق ہے، اگر ایزی پیسہ اکاؤنٹ یوفون، جیز یا زونگ نمبرز پے اوپن کیا جائے تو کوئی فری منٹس ، ایس، ایم، ایس ملتے ہیں ؟ لیکن ہم جب ایزی پیسہ اکاؤنٹ سے یوفون، جیز یا زونگ نمبرز پر ایزی لوڈ کرتے ہیں، یا کوئی پیکج لگواتے ہیں، تو ہمیں کچھ رقم واپس کیا جاتا ہے ، مثلا کسی پیکج کی قیمت 40 روپے ہے ، وہ پیکج جو ہم ایزی پیسہ سے اکٹویٹ کرتے ہیں تو ہمیں 5 روپے واپس کیے جاتے ہیں ؟ مفتی صاحب یہ جائز ہے ؟ اسی طرح کم قیمت پر اور پیکجز ہم لگواسکتے ہیں ، جب نیا ایزی پیسہ اکاؤنٹ ایکٹویٹ کرتے ہیں تو اس میں کمپنی کی طرف سے سو روپے موجود ہوتے ہیں ؟ جب ایک سے زیادہ بار پیکجز لگاتے ہیں تو کمپنی کی طرف سے انعاما کچھ رقم بھی مل جاتی ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ میں نیا ایزی پیسہ اکاؤنٹ ایکٹویٹ کرنے یا دوسرے نمبر پر ایزی لوڈ یا پیکج لگوانے یا ایک سے زائد پیکج کر وانے پر صارف کو جو سہولتیں کیش بیک، فری بیلنس ، یا فری منٹس وغیرہ کی صورت میں دی جاتی ہیں ، وہ اگر کسٹمر کے اکاؤنٹ میں کسی متعین مقدار رقم رکھنے کی شرط کے ساتھ مشروط نہ ہو، بلکہ محض انعام کے طور پر ملتے ہوں ، تو اس صورت میں مذکور رقم کا لینا اور اس کا استعمال کرنا جائز اور درست ہے ، اور اگر مذکور سہولتیں حاصل کرنے کے لئے اکاؤنٹ میں مخصوص مقدار میں رقم رکھنا شرط ہو تو واضح ہو کہ اس میں رکھے ہوئے پیسوں کی حیثیت شرعا قرض کی ہے اور قرض پر کسی قسم کا معروف یا مشروط نفع حاصل کر ناشرعا سود کے زمرہ میں آتا ہے، جس سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في فقه البيوع : الثالث ما جرى به عمل بعض التجار انهم يعطون جوائز العملاءهم الذين اشتروا منهم كمية مخصوصة ولو فى صفقات مختلفة. وقد تعطى هذه الجوائز بقدر الكمية لكل احد وقد تعطى الجوائز بالقرعة (الى قوله) فهي هبة مبتداة موعودة من البائع لتشجيع الناس على ان يشتروا البضائع منه وجواز اخذها مشروط بأن لا يكون البائع زاد في ثمن البضاعة من أجل هذه الجوائز والاصار نوعاً من القمار لان ما زاد على ثمن المثل انما طولب به على سبيل الغرر اھ (۲/۸۱۱)۔
و في الدر المختار: و في الأشباه كل قرض جر نفعا حرام اھ (5/ 166)۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة و في الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به اھ (5/ 166)۔
و في الفتاوى الهندية: أما تفسيرها شرعا فهي تمليك عين بلا عوض كذا في الكنز وأما ركنها فقول الواهب وهبت لأنه تمليك وإنما يتم بالمالك وحده والقبول شرط ثبوت الملك للموهوب له اھ (4/ 374) واللہ اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
غلام یسین شبیر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 38408کی تصدیق کریں
0     5
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات