السلام و علیکم! براہ کرم راہ نمائی فرمائیں کہ کیا نسوار کھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟ کیا نسوار منہ (mouth) میں رکھ کے ذکر کیا جا سکتا ہے؟ کیانسوار منہ (mouth) میں رکھ کے مسجد میں بیٹھا جا سکتا ہے نماز کے بعد، بیان سننے کےلئے؟ والسلام!
نسوار سے اگرچہ وضو نہیں ٹوٹا، مگر اس کو منہ میں رکھ کر مسجد میں بیٹھنا، ذکر کرنا اور بیان وغیرہ سننا خلافِ ادب عمل ہے، اس لیے اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔
ففی مشكاة المصابيح: وعن جابر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أكل من هذه الشجرة المنتنة فلا يقربن مسجدنا فإن الملائكة تتأذى مما يتأذى منه الإنس» اھ (1/ 222)
وفی الدر المختار: وأكل، ونوم إلا لمعتكف وغريب، وأكل نحو ثوم، ويمنع منه؛ وكذا كل مؤذ ولو بلسانه. (1/ 661)
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله وأكل نحو ثوم) أي كبصل ونحوه مما له رائحة كريهة للحديث الصحيح في النهي عن قربان آكل الثوم والبصل المسجد. (1/ 661)