گناہ و ناجائز

نسوار سے وضو نہیں ٹوٹنےاور نسوار منہ میں رکھ کر مسجد میں بیٹھنےاور ذکر کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
38260
| تاریخ :
2019-09-17
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

نسوار سے وضو نہیں ٹوٹنےاور نسوار منہ میں رکھ کر مسجد میں بیٹھنےاور ذکر کرنے کا حکم

السلام و علیکم! براہ کرم راہ نمائی فرمائیں کہ کیا نسوار کھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟ کیا نسوار منہ (mouth) میں رکھ کے ذکر کیا جا سکتا ہے؟ کیانسوار منہ (mouth) میں رکھ کے مسجد میں بیٹھا جا سکتا ہے نماز کے بعد، بیان سننے کےلئے؟ والسلام!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

نسوار سے اگرچہ وضو نہیں ٹوٹا، مگر اس کو منہ میں رکھ کر مسجد میں بیٹھنا، ذکر کرنا اور بیان وغیرہ سننا خلافِ ادب عمل ہے، اس لیے اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی مشكاة المصابيح: وعن جابر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أكل من هذه الشجرة المنتنة فلا يقربن مسجدنا فإن الملائكة تتأذى مما يتأذى منه الإنس» اھ (1/ 222)
وفی الدر المختار: وأكل، ونوم إلا لمعتكف وغريب، وأكل نحو ثوم، ويمنع منه؛ وكذا كل مؤذ ولو بلسانه. (1/ 661)
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله وأكل نحو ثوم) أي كبصل ونحوه مما له رائحة كريهة للحديث الصحيح في النهي عن قربان آكل الثوم والبصل المسجد. (1/ 661)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالفتاح عبدالباسط عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 38260کی تصدیق کریں
2     1059
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات