گناہ و ناجائز

کیا کسی دوسرے کے عمل کا بندہ ذمہ دار ہوگا ؟

فتوی نمبر :
37996
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

کیا کسی دوسرے کے عمل کا بندہ ذمہ دار ہوگا ؟

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ہمارے ٹرانسپورٹ کے کمپنی میں کچھ ملازم افغانستان میں کام کرتے تھے، جس کو ہم نے 2 سال پہلے فارغ کیا تھا ، جس میں سے 1 افغانستان کے فوج میں چلا گیا تھا جہاں وہ لڑائی میں مارا گیا ہے ،جس کا مجھ پر بہت زیادہ اثر ہوا اب ہر وقت پریشان رہتا ہوں، کیا وہ اپنے کیے کا خود ذمہ دار ہے؟ میں ہر وقت سوچ میں پڑتا ہوں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل اپنے سابق ملازم کے قتل کا ذمہ دار نہیں ، اس لئے سائل کو اس سلسل میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، البتہ ان کے یتیم بچوں کے ساتھ یا ان کے زیر کفالت افراد کے ساتھ کچھ تعاون کر سکتا ہو تو کر لے ، ان شاء اللہ مأجور ہو گا۔

مأخَذُ الفَتوی

كما تفسير مقاتل بن سليمان: ولا تزر وازرة وزر أخرى يعني لا تحمل نفس خطيئة نفس أخرى اھ (1/ 600) والله اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 37996کی تصدیق کریں
0     2
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات