گناہ و ناجائز

مسلمان کا قادیانی کے گھر میں رہنا اور اس کاڈرائیور بننا

فتوی نمبر :
37944
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

مسلمان کا قادیانی کے گھر میں رہنا اور اس کاڈرائیور بننا

مفتی صاحب! ہمارے گاوں میں ایک غریب ٹیکسی ڈرائیور دوسرا کباڑ کا کام کرتا ہے ،لیکن وہ رہتے قادیانیوں کے گھر میں ہیں ،وہ کرایہ نہیں دیتے، اب گاؤں کے مولوی صاحبان انہیں یہ گھر چھوڑنے کے لئے مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں ،اور ان مساجد میں ان مسلمانوں سے بائیکاٹ کا کہہ رہے ہیں؟ ان کو قادیانی نواز کے القاب دیے گئے ؟ سر یہ لوگ چلیں جائیں گئے ،پھر نئے کرایہ دار آجائینگے، گاؤں والوں نے اتنا ٹورچر کیا کہ کہتا ہے کہ بس میری بیوی بچوں کو مار دو کہ جان چھوٹ جائے ؟ مولوی صاحبان ان کو کہتے ہیں کہ تمھارے ایمان کو خطرہ ہے ،حالانکہ یہ کچھ 20 سال سے قادیانیوں کا ڈرائیور رہا ہے ،آج تک سالم مسلمان ہے، داڑھی نماز گزار ہیں ؟ اب تو ان کے ساتھ ڈرائیونگ نہیں کرتا ،لیکن وہ قادیانی شہر کو شفٹ ہو گئے ،اور یہ گاؤں میں ان کے پرانے گھر میں بغیر اجرت کے رہ رہا ہے ، یہاں کے علماء فرماتے ہیں کہ اگر گھر نہیں چھوڑا ،تو بائیکاٹ کرینگے اور تم قادیانی نواز ہو اور قادیانوں کو دعوت بھی نہیں دی جا سکتی، حالانکہ ان لوگوں کا دادا قادیانی تھا، اس کے بچے قادیانی پیدا ہوئے ،پھر زندیق کیسے ؟ مہربانی فرما کر جلدی اس کا جواب دیں اگر مزید کچھ پوچھنا ہو تو میرا نمبر لکھا ہے، اس شخص کو گھر چھوڑنے کی مہلت ملی ہے ،اس لئے یہ فتوی بہت ضروری ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ قادیانی چونکہ دیگر غیر مسلموں کے برعکس اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اپنے کفر کو اسلام ثابت کر کے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اس لئے شریعت کی نگاہ میں وہ زندیق ہیں، اور ان کا حال دیگر غیر مسلموں کے حال سے مختلف ہے، لہذا مذکور قادیانی شخص اگر چہ جدی پشتی قادیانی ہے، تب بھی وہ شرعی لحاظ سے زندیق ہی ہے ، اور مذکور غریب شخص کے لئے اس کے احسان تلے دبے رہنا کہ جس سے اس کے اور اس کی اولاد کے دل میں قادیانیت کی نفرت ختم ہو جائے درست نہیں، بلکہ اسے چاہیئے کہ کسی دوسری جگہ اپنے لئے رہائش کا انتظام کرلے ، جبکہ گاؤں کے مولوی صاحبان اور دیگر مسلمانوں کے لئے مذکور شخص سے بائیکاٹ کرنا اور اس قدر سختی سے کام لینا جس سے وہ ضد اور ہٹ دھرمی پر اتر آئے، درست نہیں، بلکہ انہیں چاہیئے کہ نرمی و شفقت سے سمجھا کر اس کام سے باز رہنے کی ترغیب دیں۔ اور اس کے لئے متبادل مکان کا بھی انتظام کرنے میں تعاون کریں۔

مأخَذُ الفَتوی

قال الله تبارك وتعالى : {لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللَّهِ فِي شَيْءٍ إِلَّا أَنْ تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقَاةً وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ وَإِلَى اللَّهِ الْمَصِيرُ } [آل عمران: 28]۔
و في احكام القرآن : قال الله تعالى ( ولا تركنوا الى الذين ظلموا فتمسكم النار) والركون إلى الشئ هو السكون اليه والمحبة (۳/ ۲۵) -

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمدوسیم سلیم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 37944کی تصدیق کریں
0     422
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات