گناہ و ناجائز

قومی بچت بہو د سیونگ سرٹیفیکیٹ حلال ہے یا حرام؟

فتوی نمبر :
37777
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

قومی بچت بہو د سیونگ سرٹیفیکیٹ حلال ہے یا حرام؟

قومی بچت بہو د سیونگ سرٹیفیکٹ کیا حلال ہے یا حرام ؟ میری دادی نے اپنا مکان بیچ کر 39 لاکھ قومی بچت میں جمع کروائے ہیں، اور ہر مہینے سیونگ کے ذریعے رقم حاصل کرتی ہے، کیا ایسا کرنا ایک بیوہ خاتون جس کے پاس کوئی ذریعہ نہ ہو آمدنی کا, جائز ہے ؟ دادی کے پاس پینشن بھی آتی ہے دادا کی، جو میرے خیال سے 15000 کے قریب رقم ہے۔ جزاک اللہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

قومی بچت اسکیم کے طریقہ کار کے مطابق چونکہ حکومت کلائنٹ سے قرض لے کر اسے نفع دینے کا وعدہ کرتی ہے ، اور قرض پر ہر قسم کا مشروط یا معروف اضافہ وصول کرنا سود کے زمرے میں آتا ہے، اس لئے سائل کی دادی کے لئے مذکور اسکیم میں پیسے جمع کر کے نفع حاصل کرنا جائز نہیں، بلکہ اسے چاہئیے کہ مذکور رقم کسی حلال کاروبار میں لگائے یا شرعی اصولوں کے تحت مستند مفتیانِ کرام کے زیر نگرانی کام کرنے والے کسی اسلامی بینک میں رکھے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما قال الله تعالى: ﴿الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾ (البقرة: 275)۔
وفي مشكاة المصابيح: عن جابر رضي الله عنه قال : لعن رسول الله صلى الله عليه و سلم آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال: "هم سواء" . رواه مسلم (2/ 134) ۔
وفي الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي: القرض الذي جرّ منفعة: قال الحنفية في الراجح عندهم: كل قرض جر نفعاً حرام إذا كان مشروطاً، فإن لم يكن النفع مشروطاً أو متعارفاً عليه في القرض، فلا بأس به اھ (5/ 3793)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
بشیراحمد عبدالصمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 37777کی تصدیق کریں
0     700
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات