السلام علیکم و رحمۃ الله وبرکاتہ!
ہم دو بندے ایک کمپنی میں کام کرتے ہیں، ہماری رہائش ،کھانا پینا ، گھر اوردفترآنا جانا کمپنی کی ذمہ داری ہے ؟ جس کے لئے گاڑی دی تھی ، لیکن چوری ہو گئی، اب ہم رکشہ، ٹیکسی، کریم یا اوبر میں جاتے ہیں ،اور بل جمع کرتے ہیں، جتنا بل جمع کرتے ہیں وہی ملتا ہے، لیکن کبھی اسی دن کبھی دو تین اور کبھی پندرہ میں دن بعد ملتا ہے ، میرا ساتھی تو روز کے 250 روپے لیتا ہے ؟ چاہے کتنا ہی کرایہ ہو، جو کہ اکثر 200 روپے ہوتا ہے ،کبھی کبھی 250 (مہینے یا دو مہینوں میں ایک یا دو مرتبہ) ہاں جب میں اکیلا ہوتا ہوں ،تو میں جتنا کرایہ ہوتا ہے ، اتنا لیتا ہوں، روز ہم رکشہ والا ڈھونڈتے ہیں کہ جو 2 سو روپے پر لے جائے ؟ اور تھوڑی بہت انتظار (محنت ) کر کے اکثر مل ہی جاتا ہے ؟ میں نے ساتھی کو مشورہ دیا کہ کریم میں کلو میٹر کا پیکج لے لیتے ہیں، وہ سستہ ملےگا،تو کمپنی کیشئر (ایڈوانس) نہیں دے رہا کہ ہم پیکج لے لیں، اب اگر میں پیکج لے لوں ،تو کمپنی سے کتنالوں یا اگر میں اپنے ساتھی سے معاملہ طے کرلوں کہ مجھے روزانہ اتنا دیا کرو، باقی وہ جانے اور کمپنی جانے۔ مثال کے طور پر میں اس سے 200 لوں ،جو کہ ویسے بھی رکشہ والا لیتا ہے ، تو کیا یہ جائز ہو گا؟ یا پھر آپ صحیح طریقہ بتادیں؟ میر ا ساتھی اہلِ حدیث ہے اور میری بات حرام حلال کے متعلق نہیں مانتا یعنی بر امانتا ہے اگر میں بتاؤں کہ یہ تو حرام ( غلط) ہے۔
سائل اور اس کا ساتھی اگر کمپنی کیساتھ بات کر کے روزانہ کی بنیاد پر اپنے لئے مخصوص کرا یہ مقرر کرائیں، تو ایسی صورت میں اگر وہ کسی رکشے یا کریم ، اوبر والے کو کم کرایہ پر راضی کر کے بقیہ پیسے اپنے پاس رکھیں تو ان کیلئے ایسا کرنا جائز ہو گا ،لیکن اگر کمپنی نے سائل اور اس کے ساتھی کے ساتھ یہ بات طے کر دی ہو کہ ان کے آنے جانے پر جتنا خرچہ ہو گا تو وہ کمپنی برداشت کرے گی، تو ایسی صورت میں ، ٹیکسی ، رکشہ والے نے جتنا کرایہ سائل اور اس کے ساتھی سے لیا ہو تو ان کیلئے اتنی رقم کمپنی سے وصول کرنا جائز ہے اس سے زیادہ جائز نہیں۔
كما في المعجم الكبير للطبراني: عبد الله بن عمرو بن عوف المزني، عن أبيه، عن جده، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «المسلمون على شروطهم إلا شرطا حرم حلالا، وأحل حراما، والصلح جائز بين الناس، إلا صلحا أحل حراما أو حرم حلالا» (17/ 22)۔
وفي سنن الترمذي: عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة من طعام، فأدخل يده فيها، فنالت أصابعه بللا، فقال: «يا صاحب الطعام، ما هذا؟»، قال: أصابته السماء يا رسول الله، قال: «أفلا جعلته فوق الطعام حتى يراه الناس»، ثم قال: «من غش فليس منا» (3/ 598)۔