السلام علیکم! ہمارے محلے کی مسجد میں امام صاحب نے دعوی کیا ہے کہ بغیر داڑھی والا شخص اذان نہیں دے سکتا ، ان کے بقول یہ ناجائز ہے ؟ براہِ کرم راہ نمائی فرما دیں۔ شکریہ
داڑھی منڈوانے اور کتروانے والے شخص کی اذان و اقامت مکروہ ہے ، اس لۓ کسی متشرع شخص کو اس کام کے لۓ مقرر کرنا چاہیۓ ، تاہم اگر کسی داڑھی منڈے شخص نے اذان کہہ دی ، تو اس کو لوٹانے کی ضرورت نہیں ، مگر ایسے لوگوں کو نرمی اور خیر خواہی سے اصلاح و فہمائش کرنی چاہیۓ تا کہ وہ اس گناہ سے تائب ہو کر اپنے اندر اذان کی اہلیت پیدا کریں۔
كما في الفتاوى الهندية : و أهلية الأذان تعتمد بمعرفة القبلة و العلم بمواقيت الصلاة . كذا في فتاوى قاضي خان وينبغي أن يكون المؤذن رجلا عاقلا صالحا تقيا عالما بالسنة . (إلی قوله) و یکره أذان الفاسق و لا یعاد هکذا فی الذخیرة اھ (1/ 53)۔