’’لو اجتمع الناس علی حب علیّ لما خلق اللہ النار ابداً‘‘ کیا یہ حدیث صحیح ہے اور اس کا مطلب کیا ہے؟
تمام صحابہ کرام بشمول حضرت علی رضی اللہ عنہم اجمعین سے محبت و عقیدت رکھنا تو ہر مسلمان کیلئے ضروری اور ایمان کا حصہ ہے، جس کی احادیثِ مبارکہ میں ترغیب آئی ہے، تاہم سائل نے سوال میں جو روایت نقل کی ہے ’’لو اجتمع الناس علی حب علی لم یخلق اللہ النار‘‘ (ترجمہ: اگر تمام لوگ حضرت علیؓ کی محبت پر جمع ہوجاتے، تو اللہ پاک آگ کو پیدا نہیں کرتے) مذکور روایت کو محدثین کرام نے موضوع و من گھڑت قرار دیا ہے۔
کما فی مختصر منھاج السنۃ: وکذالک قولہ (لو اجتمع الناس علی حب علی لم یخلق اللہ النار) من أبین الکذب باتفاق أھل العلم والإیمان، ولو اجتمعوا علی حب علی لم ینفعھم ذلک حتی یؤمنوا باللہ وملائکتہ وکتبہ ورسلہ والیوم الآخر ویعملوا صالحا، وإذا فعلوا ذلک دخلوا الجنۃ، وإن لم یعرفوا علیا بالکلیۃ، ولم یخطر بقلوبھم لا حبہ ولا بغضہ۔ (ص:٢٥٤)۔
وفی تنزیہِ الشریعۃ: وحدیث (لو اجتمع الناس علی حب علی لم یخلق اللہ النار) حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما (قلت) لم یبین علتہ، وفیہ ابو الفضل محمد بن عبد اللہ الشیبانی الکوفی۔ واللہ اعلم
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے گھر والوں کا ایک فقیر کی مدد کرنے والے واقعہ کی تحقیق
یونیکوڈ من گھڑت احادیث 0