گناہ و ناجائز

شوہرکابیوی کے انتقال کے بعد اس کے چہرے کو دیکھنے کاحکم

فتوی نمبر :
3715
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

شوہرکابیوی کے انتقال کے بعد اس کے چہرے کو دیکھنے کاحکم

السلام علیکم!
کیا بیوی کے انتقال کے بعد شوہر اس کا چہرہ نہیں دیکھ سکتا ؟ اور اگر شوہر کا انتقال ہو جائے تو بیوی اس کا چہرہ نہیں دیکھ سکتی ؟کیا مرنے کے بعد ان کا رشتہ ٹوٹ جاتا ہے ؟
قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب دیجیے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

میاں بیوی میں سے کسی ایک کے انتقال کے بعد ان کے لئے ایک دوسرے کا چہرہ دیکھنا جائز ہے، مگر خاوند بیوی کے چہرے کو چھو نہیں سکتا ،جبکہ خاوند کے انتقال کے بعد عدّت ختم ہونے تک بیوی اس کے نکاح میں رہتی ہے اور عدّت کے بعد یہ رشتہ ختم ہو جاتا ہے اور عورت کے انتقال کے بعد فوراً میاں بیوی کا رشتہ ختم ہو جاتا ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففي البحرالرائق: ولا يغسل الرجل زوجته والزوجة تغسل زوجها دخل بها أو لا بشرط بقاء الزوجية عند الغسل اھ (2/ 188)۔
وكذا في الهندية الفتاوى الهندية: ويجوز للمرأة أن تغسل زوجها إذا لم يحدث بعد موته ما يوجب البينونة من تقبيل ابن زوجها أو أبيه وإن حدث ذلك بعد موته لم يجز لها غسله وأما هو فلا يغسلها عندنا كذا في السراج الوهاج اھ (1/ 160)۔
و في الدر المختار: (ويمنع زوجها من غسلها ومسها لا من النظر إليها على الأصح) منية. (2/ 198)۔
و في مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح: "بخلافه" أي الرجل لا يغسل زوجته لانقطاع النكاح اھ (ص: 215)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 3715کی تصدیق کریں
0     388
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات