نکاح اور طلاق کا تعلق تقدیرِ مبرم سے ہے یا تقدیرِ معلّق سے ؟ تقدیر مبرم کے سامنے انسان بے بس ہے؟تقدیر مبرم میں انسان کے کون سے معاملات لکھے ہوتے ہیں ؟
نکاح وطلاق کا تعلق تقدیر معلق کے ساتھ بھی ہو سکتا اور تقدیر مبرم کے ساتھ بھی، جبکہ تقدیری فیصلے ہونے کے باوجود بھی انسان ایک حد تک خود مختار ہے اور اسی اختیار کی وجہ سے سزا وجزاء کا مستحق ٹھہرتا ہے ۔
کما فی مرقاہ المفاتیح: تحت (قوله بعضاً ) ای بعضاآخر (الی قوله)قال المظهر: اعلم أن لله تعالى في خلقه قضاءين مبرما ومعلقا بفعل، كما قال: إن فعل الشيء الفلاني كان كذا وكذا، وإن لم يفعله فلا يكون كذا وكذا من قبيل ما يتوق إليه المحو والإثبات(9/3677)-