گناہ و ناجائز

دوائی لگانے کے بہانے مشت زنی کا ارتکاب کرنا

فتوی نمبر :
36973
| تاریخ :
2019-03-02
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

دوائی لگانے کے بہانے مشت زنی کا ارتکاب کرنا

میرا سوال ہے کہ اگر کوئی شادی شدہ شخص کسی غلط نیت کے بغیر , کہ اس کے دل میں کوئی غلط ارادہ نہ ہو اور وہ علاج کی غرض سے اپنے اعضاءِ مخصوصہ پر کسی مرہم سے مالش کرتے ہوئے اس سے منی نکل جائے , تو کیا مشت زنی کا مرتکب ہوا کہ نہیں؟ اور اگر مرتکب ہوا تو اس کا گناہ اور اس کا کفارہ کتنا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

عضوِ خاص پر مرہم لگاتے ہوئے اس حد تک جانا کہ انزال ہو جائے مشت زنی کا ارتکاب ہی ہے، اس لئے شخصِ مذکور کو اس سلسلہ میں حیلہ بہانہ کے بجائے اس گناہ پر بصدقِ دل تو بہ کرنا اور آئندہ اس طرح کے گناہ سے اجتناب لازم ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في حاشية ابن عابدين : (قوله الاستمناء حرام) أي بالكف إذا كان لاستجلاب الشهوة اھ (4/ 27)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
مفتی احمد یوسف عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 36973کی تصدیق کریں
0     662
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات