میرا سوال ہے کہ اگر کوئی شادی شدہ شخص کسی غلط نیت کے بغیر , کہ اس کے دل میں کوئی غلط ارادہ نہ ہو اور وہ علاج کی غرض سے اپنے اعضاءِ مخصوصہ پر کسی مرہم سے مالش کرتے ہوئے اس سے منی نکل جائے , تو کیا مشت زنی کا مرتکب ہوا کہ نہیں؟ اور اگر مرتکب ہوا تو اس کا گناہ اور اس کا کفارہ کتنا ہے؟
عضوِ خاص پر مرہم لگاتے ہوئے اس حد تک جانا کہ انزال ہو جائے مشت زنی کا ارتکاب ہی ہے، اس لئے شخصِ مذکور کو اس سلسلہ میں حیلہ بہانہ کے بجائے اس گناہ پر بصدقِ دل تو بہ کرنا اور آئندہ اس طرح کے گناہ سے اجتناب لازم ہے ۔
كما في حاشية ابن عابدين : (قوله الاستمناء حرام) أي بالكف إذا كان لاستجلاب الشهوة اھ (4/ 27)-