مفتی صاحب السلام علیکم!
ایک مسجد میں نماز باجماعت ادا کی گئی، کچھ مسافر حضرات تشریف لاتے ہیں اور دوبارہ نماز باجماعت ادا کرتے ہیں،کیا دوبارہ جماعت کے لئے اقامت کا کہنا لازمی ہے کہ نہیں؟ رہنمائی فرمادیں۔
مذکور مسجد اگر کسی محلے کی ہو، اس میں امام ، مؤذن اور مقتدی متعین ہوں تو ایسی مسجد میں جماعتِ ثانیہ اذان واقامت کے ساتھ عندالاحناف مکروہِ تحریمی ہے جس سے احتراز لازم ہے۔ البتہ مسجد راستے کی ہو جس میں امام ،مؤذن اور مقتدی متعین نہ ہوں تو ایسی مسجد میں اذان و اقامت کے ساتھ جماعتِ ثانیہ جائز اور درست ہے،مگر لازمی نہیں ۔
كما في الدر المختار: (أو) مصل في مسجد بعد صلاة جماعة فيه بل يكره فعلهما و تكرار الجماعة إلا في مسجد على طريق فلا بأس بذلك اھ (ج ١ ص ٣٩٥)-
و في الرد: تحت (قوله: إلا في مسجد على طريق هو ما ليس له إمام ومؤذن راتب فلا يكره التكرار فيه بأذان وإقامة، بل هو الأفضل خانية (قوله فلا بأس بذلك الأولى حذفه لما علمت أنه الأفضل فافهم. اهـ ( ج ۱ ص ٣٩٥)۔