گناہ و ناجائز

یوٹیوب چینل کے ذریعہ کمائی کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
36127
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

یوٹیوب چینل کے ذریعہ کمائی کرنے کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں جسے میں کرنا چاہتا ہوں ، اگر میں یوٹیوب پر موجود ویڈیوز ڈاؤن لوڈ کروں، اور پھر اس میں کچھ تبدیلی کروں اور دوبارہ یوٹیوب پر بھیجوں ،مگر ویڈیو میں عورتوں کی تصویریں ہوں باتیں کرتی ہوئی ( یا صرف عورتوں کی آواز ہو گی بغیر تصویر کے ) تو کیا اس طرح کی ویڈیو پوسٹ کرنا جائز ہے شریعت میں ؟ میری بھیجی گئی ویڈیو کے عوض یوٹیوب مجھے ایک متعین رقم ادا کریگا جس کی مقدار ویڈیو دیکھنے والوں کی تعداد پر مبنی ہو گی ، تو اگر میں کسی اور کی ویڈیولوں اور اس میں تبدیلی کروں ( مکمل قانون کے مطابق ) پھر دوبارہ بھیجوں، مگر اس میں عورتوں کی چند اشیاء ہونگی ، یا عورتوں کی آواز ہو گی یافٹ بال کا ایکشن ہو گا جس میں مردوں کے گٹھنے کھلے ہوئے ہوں گے ، کیا ایسی ویڈیو دوبارہ پوسٹ کرنا جائز ہے ، البتہ ویڈیو کا مقصد مذکور اشیاء کو دکھانا نہیں ہے، مگر وہ ویڈیو کے مقصد کے پورا کرنے میں شامل ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ یوٹیوب چینل کے ذریعہ کمائی کرنا اس شرط کے ساتھ کہ اپلوڈ کی جانے والی ویڈیوز میں نامحرم عورتوں کی تصاویر ، موسیقی و غیر ہ دیگر غیر شرعی امور نہ ہوں، صورت مسئولہ میں چونکہ ایسی ویڈیوز اپلوڈ کرنا جس میں مندرجہ بالا غیر شرعی امور کا ارتکاب ہوتا ہے جو فحاشی اور برائی پھیلانے کا ذریعہ ہیں، اس لئے ایسی ویڈیوز اپلوڈ کرنے اور اس کے ذریعہ نفع حاصل کرنا سب ناجائز ہے ، جس سے احتراز لازم ہے ، سائل کو چاہئے کہ غیر شرعی امور پر مشتمل ویڈیوز کے علاوہ کسی جائز امر پر مشتمل ویڈیوز اپلوڈ کرنے کا اہتمام کرے تو یہ جائز بھی ہو گا اور اس سے حاصل شدہ آمدنی حلال بھی ہوگی۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في تكملة فتح المهم اما التلفزيون والفديو ، فلا شك في حرمة استعمالهما بالنظر الى ما يشتملان عليه من المنكرات الكثيرة من الخلاعة والمجون، والكشف عن النساء المتبرجات أو العاريات، وما إلى ذلك من اسباب الفسوق اھ ( ۴/ ۱۶۴)۔
و في الدر المختار: (لا تصح الإجارة لعسب التيس) وهو نزوه على الإناث (و) لا (لأجل المعاصي مثل الغناء والنوح والملاهي) اھ (6/ 55)
و في الفقه الحنفى و أدلته: لا يجوز للرجل أن ينظر من المراة الأجنبية إلا إلى وجهها وكفيها ضرورة احتياجها إلى المعاملة مع الرجال اھ (۲/ ۴۳۱)۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): تحت (قوله على الراجح) (الى قوله) ومقابله ما في النوازل: نغمة المرأة عورة (الى قوله) قال - عليه الصلاة والسلام - «التسبيح للرجال، والتصفيق للنساء» فلا يحسن أن يسمعها الرجل. اهـ. و في الكافي: ولا تلبي جهرا لأن صوتها عورة اھ (1/ 406)۔
و في الدر المختار: (و) الرابع (ستر عورته) ووجوبه عام ولو في الخلوة على الصحيح إلا لغرض صحيح، وله لبس ثوب نجس في غير صلاة (وهي للرجل ما تحت سرته إلى ما تحت ركبته) اھ (1/ 404)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد ابو بکر سعید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 36127کی تصدیق کریں
0     15
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات