گناہ و ناجائز

دومرد ں کاکپڑے اتارکرایک ساتھ سونے کاحکم

فتوی نمبر :
3587
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

دومرد ں کاکپڑے اتارکرایک ساتھ سونے کاحکم

انکل میری عمر بارہ سال ہے اور میرے ایک کزن کی عمر کی پندرہ (۱۵) سال ہے، ہم دونوں کا کمرہ ایک ہے سب کمروں سے جدا ہیں اوپر والی منزل پر، اور جب ہم دونوں کمرے میں سونے آتے ہیں تو میرا کزن اپنے پورے کپڑے اتار دیتا ہے اور میرے بھی پورے کپڑے اتار دیتا ہے میں منع کرتا ہوں تو وہ مجھے ڈانٹتا ہے، اس لئے مجھے بھی اتارنے پڑھتے ہیں، پھر وہ میری بدن پر ہاتھ پھرتا ہے اور بہت کچھ کرتا ہے، تو کیا مجھے اس کا گناہ ہو گا یا میرے کزن کو؟ وہ زبردستی میرے کپڑے اترواتا ہے ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل اور اس کا کزن اس حرکت کی وجہ سے بہت گناہگار ہور ہے ہیں ان پر لازم ہے کہ اپنی اس حرکت سے اجتناب کریں اور مذکور کزن کے باز نہ آنے پر اپنے بڑوں کو اس سے آگاہ کریں اور پھر بھی باز نہ آنے پر اس سے علیحدگی اختیار کرے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففي سنن الترمذي: عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من وجدتموه يعمل عمل قوم لوط فاقتلوا الفاعل والمفعول به» اھ (4/ 57)
و في مشكاة المصابيح: وعن عمران بن حطان قال: أتيت أبا ذر فوجدته في المسجد محتبيا بكساء أسود وحده. فقلت: يا أبا ذر ماهذه الوحدة؟ فقال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «الوحدة خير من جليس السوء والجليس الصالح خير من الوحدة وإملاء الخير خير من السكوت والسكوت خير من إملاء الشر» اھ (3/ 1364)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 3587کی تصدیق کریں
0     391
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات