گناہ و ناجائز

اگر گواہوں کی گواہی رد ہوجائے تو کیا اس صورت میں بھی مدعی علیہ سے قسم لی جائے گی؟

فتوی نمبر :
35745
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

اگر گواہوں کی گواہی رد ہوجائے تو کیا اس صورت میں بھی مدعی علیہ سے قسم لی جائے گی؟

السلام علیکم!
مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کیافرماتے ہیں کہ جب مدعی اپنے دعویٰ پر گواہ پیش کرے، لیکن کچھ وجوہات کی بناء پر وہ گواہ رد ہو جائیں، تو کیا اس صورت میں مدعی علیہ پر قسم ہو گی یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر مدعی قاضی کی عدالت میں گواہ پیش نہ کرسکے، یا شهادت رد ہونے کی وجوہات میں سے کسی وجہ سے گواہی رد کی جائے، تو مدعی کے مطالبے پر مدعی علیہ سے قسم لیکر فیصلہ کیا جائے گا۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي: وإن عجز المدعي عن تقديم البينة، وطلب يمين خصمه المدعى عليه، استحلفه القاضي، ودليله قول النبي صلّى الله عليه وسلم للمدعي في قصة الحضرمي والكندي: «ألك بينة؟» قال: لا، فقال النبي: «فلك يمينه» أي يمين المدعى عليه (8/ 5985) والله أعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمدفیصل ابوبکر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 35745کی تصدیق کریں
0     10
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات