گناہ و ناجائز

ؑغیرمحرم عورت کیساتھ بات چیت کرنے کاحکم

فتوی نمبر :
3561
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

ؑغیرمحرم عورت کیساتھ بات چیت کرنے کاحکم

السلام علیکم !
میری ناقص علم کے مطابق کسی نامحرم کے ساتھ نجی گفتگو منع ہے، کیو نکہ اس میں خلوت ہوتی ہے ، سوال یہ ہے کہ اوزکُٹ جیسی ویب سائٹ پر جہاں پیغامات ایک بورڈ کی صورت میں آتے ہیں اور ہر کوئی انہیں دیکھ سکتا ہے،( مطلب صرف بات کرنے والے ہی نہیں بلکہ کوئی بھی دیکھ سکتا ہے) تو ایسے میں اسی نا محرم سے بات چیت کے بارے میں شریعتِ مطہّرہ کا کیا حکم ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

قصدا ًکسی بھی غیر محرم سے بات چیت اور اس کے ساتھ بے تکلفی اختیار کرنا خواہ بالمشافہ ہو، فون کے ذریعہ یا نیٹ وغیرہ کے ذریعہ شرعاً جائز نہیں، بلکہ سخت گناہ کی بات ہے جس سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففي الدر المختار: ولا يكلم الأجنبية إلا عجوزا عطست أو سلمت فيشمتها لا يرد السلام عليها وإلا لا انتهى، وبه بان أن لفظه لا في نقل القهستاني، ويكلمها بما لا يحتاج إليه زائدة فتنبه اھ (6/ 369)۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله زائدة) يبعده قوله في القنية رامزا ويجوز الكلام المباح مع امرأة أجنبية اهـ و في المجتبى رامزا، و في الحديث دليل على أنه لا بأس بأن يتكلم مع النساء بما لا يحتاج إليه، وليس هذا من الخوض فيما لا يعنيه إنما ذلك في كلام فيه إثم اهـ فالظاهر أنه قول آخر أو محمول على العجوز تأمل، وتقدم في شروط الصلاة أن صوت المرأة عورة على الراجح ومر الكلام فيه فراجعه اھ (6/ 369)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 3561کی تصدیق کریں
0     447
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات