آپ کی خدمت میں ایک مسئلہ پیش کرتا ہوں امید ہے کہ آپ میرے اس مسئلہ پر شریعت کے مطابق میری رہنمائی فرمائیں گے۔
۱: مسئلہ یہ ہے کہ میں ایک کمپنی میں ملازمت کرتا ہوں اور ہمارا ڈیلی کا تعلق غیر مسلم (ہندوؤں) سے پڑتا رہتا ہے چاہے آمنے سامنے ملاقات ہو یا فون پر. تو اکثر اوقات فون پر بے خیالی سے منہ سے سلام نکل جاتا ہے جس کا وہ جواب بھی دیتا ہے کیا ایسی صورت میں شریعت کیا کہتی ہے؟
۲:سوال یہ ہے کہ میرے آفس میں ایک صاحب جو کہ خود مسلمان ہے وہ ہر بار ہندوؤں مہمانوں یا مزدوروں سے ملتے ہوئے جان بوجھ کر دانستہ طور پر ان کے بھگوان کا نام لیکر ملتا ہے مثال کے طور پر جے شہیرا رام، جے کرشنا رام، ایسے کفرانہ کلمات بولتا ہے اور ہمارے سمجھانے پر الٹا فضول بحث شروع کر دیتا ہے تو پلیز مہربانی فرما کر شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کیا ایسا کچھ کرنے والا انسان دائرہ اسلام سے خارج ہوگا کہ نہیں؟
۳: کیا ایسے انسان کا نکاح قائم رہے گا کہ نہیں؟
ابتداءً غیر مسلم کو سلام نہیں کرنا چاہیئے ، البتہ اگر ضروری حاجت ہو اور اس کے لئے اُس کے پاس جانا پڑے ،یا فون پر بات چیت کرنی پڑے ،تو ایسی ضرورت کے مواقع پر فقہاء کرام نے سلام کرنے کی اجازت دی ہے، البتہ افضل اور بہتر یہ ہے کہ ایسے مواقع پر بھی السلام علیکم کی بجائے دیگر الفاظ جو میل جول کے وقت لوگوں میں رائج ہیں موقع اور مناسبت کا لحاظ کرتے ہوئے ان کا استعمال کیا جائے، جبکہ ہندوؤں سے ملاقات کے وقت جے شہیرا رام اور جے کرشنا رام کے کہنے سے کوئی شخص دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا ،مگر یہ جملے اور طریقہ ملاقات چونکہ غیر مسلموں کے ساتھ خاص ہے اور اس طرح کرنے سے ان کی مشابہت لازم آتی ہے اور غیر مسلموں کی حقارت بھی دل سے نکلنے کا اندیشہ ہے اس لئے مسلمانوں کو ان الفاظ سے اجتناب کرنا لازم ہے ۔
كما في الدر المختار: (ويسلم) المسلم (على أهل الذمة) لو له حاجة إليه وإلا كره هو الصحيح (الى قوله) فلا يسلم ابتداء على كافر لحديث «لا تبدءوا اليهود ولا النصارى بالسلام (الى قوله) ولو سلم يهودي أو نصراني أو مجوسي على مسلم فلا بأس بالرد (و) لكن (لا يزيد على قوله وعليك) كما في الخانية (6/ 412)
و في الدر المختار: فإن التشبه بهم لا يكره في كل شيء، بل في المذموم وفيما يقصد به التشبه، كما في البحر. (1/ 624)