گناہ و ناجائز

علماء کی تقاریر کے بیک گراؤنڈ میں میوزک لگانے کا حکم

فتوی نمبر :
34990
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

علماء کی تقاریر کے بیک گراؤنڈ میں میوزک لگانے کا حکم

آج کل سوشل میڈیا پر جید علماء کی تقریر تبلیغ میوزک کے بیک گراؤنڈ میں پلے ہورہی ہوتی ہے؟
سوال یہ ہے کہ کیا نبی اکرمﷺ میوزک کا بیک گراؤنڈ میں تبلیغ کیا کرتے تھے؟ یا قرآن پاک کی تلاوت یا درسِ حدیث وقرآن میوزک کے بیک گراؤنڈ میں کرنے کی اجازت ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

میوزک اور موسیقی سننا مطلقا ناجائز اور حرام ہے۔ اور نبی کریمﷺ ان حرام اور ممنوع امور کے خاتمے کے لئے تشریف لائے تھے نہ کہ ان کی ترویج کے لئے، اس لئے یہ کہناکہ ’’کیا آپﷺ سے میوزک بیک گراؤنڈ کے ساتھ تبلیغ کرتےتھے؟‘‘ ایسا سوال ہے جو شریعت ِمطہرہ سے ناواقفیت اور جہالت کی دلیل ہے۔ جبکہ ہماری معلومات کے مطابق کسی بھی جید عالم ِدین کی براہِ راست تقریر میں میوزک شامل نہیں ہوتا اور نہ ہی شرعاً درس ِقرآن اور درسِ حدیث کے بیک گراؤنڈ میں اسے شامل کرنے کی اجازت ہے۔
اس کے بعد واضح ہو کہ سوشل میڈیا پر علماء کرام کی موجود تقاریر اور مواعظ کے ساتھ اگر کوئی میوزک ساؤند بھی ایڈ کردیتا ہے تو اس کا یہ عمل نہ صرف خلافِ شریعت ہے بلکہ خلاف قانون بھی ہے کہ ان کی اجازت کے بغیر اس طرح ایڈیٹنگ کرکے عوام الناس میں انہیں متنازع بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس لئے ان امور میں علماء کو ہدف بنانے کے بجائے ان لوگوں کی اصلاح کی ضرورت ہے جو ان غیر شرعی اور غیر اخلاقی کاموں میں مصروف ہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الترمذی: عن عمران بن حصین رضی اللہ عنه ان رسول اللہﷺ قال فی هذه الامة خسف ومسخ وقذف فقال رجل من المسلمین یا رسول اللہ متی ذلك؟ قال اذا ظهرت القینات والمعازف وشربت الخمور. (۲/ ۴۴)-
وفی الدر: قال ابن مسعود رضی اللہ عنه صوت اللهو والغناء ینبت النفاق فی القلب کما ینبت الماء النبات، قلت وفی البزازیة : استماع صوت لملاهی کضرب قصب ونحوه حرام لقولہ علیه السلام: ’’استماع الملاهی معصیة والجلوس علیها فسق و التلذذ بها کفر (الٰی قوله) فالواجب کل الواجب ان یجتنب کی لا یسمع‘‘ اھ (۴/ ۳۴۹) -

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 34990کی تصدیق کریں
0     1027
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات