السلام علیکم!
کیا فرماتے ہیں مفتیان صاحبان:
(۱) ایزی پیسہ ریٹیلر اکاؤنٹ میں بل جمع کرنے پر ساڑھے چار روپے اکاونٹ میں آتے ہیں-
(۲): ایزی پیسہ اکاونٹ سے اپنے نمبر پر لوڈ کرنے سے ایک ہزار منٹس ، ایس ایم ایس ، انٹرنیٹ دیتے ہیں ۔ مثلاً اپنے نمبر پر اپنے ایزی پیسہ اکاونٹ سے سو روپے سے زائد لوڈ کرنے پر ہزار منٹس، ایس ایم ایس اور انٹرنیٹ دیتے ہیں ۔
کیا یہ جائز اور حلال ہے ؟ جزاک اللہ والسلام
واضح ہو کہ ایزی پیسہ میں اکاونٹ کھلوانا فی نفسہ جائز ہے، مگر اس میں رکھے ہوئے پیسوں کی حیثیت قرض کی ہے، اور کمپنی کی طرف سے اس رقم پر دیے جانے والے فری منٹس، SMS ، اور MB وغیرہ قرض پر نفع ہونے کی بناء پر سود ہے، جو کہ ناجائز اور حرام ہے، لہذا اس کے لینے سے احتراز لازم ہے۔
کمافي الدر المختار: وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام اھ(5/ 166)۔
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به اھ (5/ 166) -