پے ڈائمنڈ نام کی ایک کمپنی ہے، اس کے بارے میں بتا دیجئے کہ اس کا منافع اسلام کے مطابق صحیح یا نہیں ؟
سوال میں ذکر کردہ ’’پے ڈائمنڈ‘‘ نامی کمپنی کے بارے میں دار الافتاء دارالعلوم کراچی سے رابطہ کرنے سے معلوم ہوا کہ اس کمپنی کے طریقہ کار کے بارے میں وہاں متعدد بار غور و فکر کیا جا چکا ہے، جس کے نتیجہ میں یہ بات واضح ہوئی ہے کہ مذکورہ کمپنی کے طریقہ کار میں سود اور اس جیسی متعد د خرابیاں پائی جاتی ہیں، جس کی بنا پر وہاں کے مفتیانِ کرام نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ مذکورہ کمپنی کا طریقہ کار شرعاً جائز نہیں ، اس لئے ان پر اعتماد کرتے ہوئے ہماری رائے میں بھی مذکور کمپنی کے ساتھ کاروبار میں شرکت کرنا بھی درست نہیں۔
قال للہ تعالیٰ: ﴿وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾ (البقرة: 275)۔
قال اللہ تعالیٰ: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ} [البقرة: 278] ۔
وفي الدر المختار: وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن. (5/ 166)۔