میرے والد نے کچھ پیسے نیشنل سیونگ میں رکھے، جس کے بارے میں مجھےعلم نہیں تھا، والد کی وفات کے بعد مجھے اس بارے معلوم ہوا، اور میں نے کام شروع کیا ،اور میں نے نیشنل سیونگ سے پیسے لے لیے ، کیا یہ میرے حلال ہیں ؟ جیسا کہ مجھے اس کا علم نہیں تھا اور سرٹیفکیٹ لینے میں کوئی وصیت شامل نہیں تھی ؟ پلیز مشورہ دیں ۔
ہماری معلومات کے مطابق پاکستان نیشنل سیونگ سرٹیفکیٹ سودی معاملات سے خالی نہیں، اس لئے اس کے ذریعہ نفع کا حصول شرعاً سود کے حکم میں ہے، لہذا سائل کو چاہیئے کہ والد مرحوم کی جمع کردہ رقم کو ورثاء میں حسبِ حصص تقسیم کرے، جبکہ سودی رقم کو کسی مستحق فقیر کو بغیر نیتِ ثواب دیدے۔ البتہ اگر وہ خود مستحق ہوں تو ورثاء خود بھی رکھ سکتے ہیں۔
قال للہ تعالیٰ: ﴿وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾ (البقرة: 275)۔
وفي حاشية ابن عابدين: تحت (قوله وكل أنواع الكسب إلخ) أي أنواعه المباحة، بخلاف الكسب بالربا والعقود الفاسدة ونحو ذلك اھ(6/ 462) ۔