السلام عليكم! مفتی صاحب میرا سوال ہے کہ اگر کوئی شخص عمر نکاح کو پہنچ جائے اور وہ مالی مشکلات کی وجہ سے نکاح نہ کرے تو کیا مشت زنی جائز ہے؟ نیز بلیو فلموں کے بارے میں کیا حکم ہے؟
مشت زنی نا جائز ہے، قرآن وحدیث میں اس پر بہت سخت وعیدیں آئی ہیں اس لئےمشت زنی کو نکاح کے متبادل کے طور پر اختیار کرنا شرعاً نا جائز اور حرام ہے جس سے احتراز لازم ہے، اور سائل پر لازم ہے کہ جب تک نکاح کی ترتیب نہ بنے اس وقت تک روزے رکھ کر اپنی شہوت کو توڑے، جبکہ فحش فلمیں دیکھنا کسی صورت جائز نہیں ۔
کما قال الله تعالى: {وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ}۔الآیة [المؤمنون: 5]
وفي رد المحتار: ويدل أيضا على ما قلنا ما في الزيلعي حيث استدل على عدم حله بالكف بقوله تعالى {والذين هم لفروجهم حافظون} [المؤمنون: 5] الآية وقال فلم يبح الاستمتاع إلا بهما أي بالزوجة والأمة اهـ فأفاد عدم حل الاستمتاع أي قضاء الشهوة بغيرهما هذا ما ظهر لي والله سبحانه أعلم اھ (2 /399)