میں اپنی خالہ کے گھر جاتا تھا،تو انہوں نے ایک دن مجھے پیسے دینے چاہے تو میں لینا نہیں چاہتا تھا،انہوں نے زبردستی میرے جیب میں ڈالے،جس کی وجہ سے میرا ہاتھ ان کے ہاتھ کے ساتھ مس ہوا،میری دل کی دھڑکن بھی تیز ہوئی،اور شہوت بھی ہوئی،کیا ان کی بیٹی سے نکاح کرنا حرام ہوگا؟یا نہیں؟
سائل نے اگر اپنی خالہ کا ہاتھ بلا کسی حائل کے شہوت کے ساتھ چھوا ہو اور چھوتے وقت سائل کو شہوت پیدا ہوگئی ہوتو اس سے حرمتِ مصاہرت ثابت ہوچکی ہے،اب سائل کیلئے اپنی خالہ کی بیٹی سے نکاح کرنا جائز نہیں،جس سے احتراز لازم ہے،تاہم اگر مسئلہ کی نوعیت کچھ اور ہو تو اس کی وضاحت کرکےسوال دوبارہ "ای میل" کردیں،بعدِ ازاں ان شاء اللہ حکمِ شرعی سے آگاہ کیا جائے گا۔
کما فی الفتاوی الھندیة: وکما تثبت ھذہ الحرمة بالوطء تثبت بالمس والتقبیل والنظر الیٰ الفرج بشھوة کذا فی الذخیرة اھ (1/274)۔
وفیه أیضاً: ولو أقر بحرمة المصاھرة یؤاخذ به ویفرق بینھما والاصرار علیٰ الاقرار لیس بشرط حتیٰ لو رجع عن ذالک فقال:کذبت، فالقاضی لایصدقه اھ (1/276)۔