گناہ و ناجائز

کمپبی کی طرف سے موبائل اکاؤنٹ کھلوانے پر بطور آفر ، روزانہ’’فری منٹس‘‘ اور ’’فری ایس ایم ایس‘‘ استعمال کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
32967
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

کمپبی کی طرف سے موبائل اکاؤنٹ کھلوانے پر بطور آفر ، روزانہ’’فری منٹس‘‘ اور ’’فری ایس ایم ایس‘‘ استعمال کرنے کا حکم

السلام علیکم !
صورتِ مسئلہ یہ ہے کہ بعض موبائل کمپنیاں موبائل اکاؤنٹ کھلوانے پر بطور آفر روزانہ’’فری منٹس‘‘ اور ’’فری ایس ایم ایس‘‘ بھیجتی ہیں، کیا شریعت کی رو سے یہ ’’فری منٹس‘‘ اور ’’فری ایس ایم ایس‘‘ استعمال کرنا درست ہے ؟ جبکہ ’’ فری منٹس‘‘ فی کال کے حساب سے 20 پیسہ چارج وصول کیے جاتے ہیں، اور ’’ ایس ایم ایس ‘‘ بالکل مفت ہیں ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ موبائل اکاؤنٹ میں رکھی جانے والی رقم کمپنی کے ذمہ واجب الادا قرض ہے، اور اس اکاؤنٹ میں ایک خاص مقدار کی رقم جمع رکھنا اور اس کو برقرار رکھنا فری سہولیات ملنے کے لئے ایک لازمی شرط ہے، اور فری سہولیات قرض پر اضافی منفعت ہے، جو کہ سود میں شامل ہے، اس لئے اس سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

وفي حاشية ابن عابدين: (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به اھ (5/ 166)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمدعبداللہ محمود عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 32967کی تصدیق کریں
0     708
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات