السلام علیکم ورحمۃ اللہ! زید تسبیح پڑھتے ہوئے اپنے موبائل میں کوئی وڈیو دیکھ رہا تھا اس کی والدہ آئی اور اس سے مس ہو کر ویڈیو دیکھنے لگی، غیر اختیاری طور پر زید کا آلۂ تناسل حرکت میں آیا، زید نے موبائل بند کر دیا، والد ہ چلی گئی، زید کیلئے شرعی حکم کیا ہے؟
زید نے دورانِ شہوت بلا حائل اپنی والدہ کے بدن کے کسی بھی حصے کو چھوا ہو، تو اس سے حرمتِ مصاہرت ثابت ہو چکی ہے اور زید کی والدہ اپنے شوہر کیلئے ہمیشہ کیلئے حرام ہو چکی ہے، دونوں پر لازم ہے کہ ایک دوسرے سے علیحدہ ہو جائیں اور زید کے والد کو چاہیئے کہ الفاظ متارکہ (میں نے چھوڑ دیا وغیرہ ) بھی کہہ دے تاکہ زید کی والدہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکے۔
تاہم اگر سوال کی نوعیت کچھ اور ہو تو اس کی تفصیل لکھ کر دوبارہ حکم شرعی معلوم کر سکتے ہیں۔
کما في الفتاویٰ الهندية: وكما تثبت هذه الحرمة بالوطء تثبت بالمس (الی قوله) ثم المس إنما يوجب حرمة المصاهرة إذا لم يكن بينهما ثوب اھ (1/ 274)
وفي الدر المختار: وبحرمة المصاهرة لا يرتفع النكاح حتى لا يحل لها التزوج بآخر إلا بعد المتاركة وانقضاء العدة اھ (3 /37)