السلام علیکم!
ایک شخص گورنمنٹ لائبریری میں جاب کرتا ہے، اگر کوئی لائبریری یوزر ،لائبریرر (ناظم لائبریری) سے کوئی کتاب منگوانا چاہے ،اور وہ کتاب مارکیٹ سے پانچ ہزار (۵۰۰۰) روپے کی ملتی ہو، اور لائبریرر (ناظم لائبریری) نے اس یوزر کو کہا کہ میں آپ کو یہ کتاب چار ہزار (۴۰۰۰) روپے میں منگوا دونگا، پھر لائبریرر (ناظم لائبریری) وہ کتاب تین ہزار پانچ سو (۳۵۰۰) روپے میں منگوالے، اب جو پانچ سو (۵۰۰) روپے باقی بچے وہ پیسے یوزر کو واپس کرنا ضروری ہو گیا یا لائبریرر (ناظم لائبریری) وہ پیسے اپنے پاس رکھ سکتا ہے۔
نوٹ: یوزر کو کتابیں منگوا کے دینا لائبریرر کی آفیشل قانونی ڈیوٹی میں شامل نہیں ہے، براہِ کرم جواب عنایت فرمائیں۔
لائبریرین نے کتاب منگواتے وقت اگر یوزر سے باقاعدہ طور پر اپنی فیس کے لئے بات طے کی ہو تو اس قدر رقم لینا اس کے لئے جائز ہے، ورنہ کتاب کی قیمت سے زیادہ رقم یوزر کے علم میں لائے بغیر اپنے پاس رکھنا جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔
ففي الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي: فإذا خالف الوكيل لا يلزم الموكل بالشراء إلا إذا كان خلافاً إلى خير، فيلزمه.(إلی قوله) أن يقول الموكل: اشتر لي ثلاجة بألف ليرة، فاشترى ثلاجة بأكثر من الألف، فيلزم الشراء بالوكيل دون الموكل؛ لأنه خالف أمر الموكل، فيصير مشترياً لنفسه. وإن اشترى ثلاجة بثمان مئة ليرة، ومثله يشترى عادة بألف، لزم الشراء الموكل؛ لأن الخلاف إلى خير لا يكون خلافاً معنى اھ (5/ 4098) ۔
وفي شرح المجلة: وذکر فی الدرر وحواشیه أن البائع لو وھب کل الثمن للوکیل رجع الوکیل بکله علی المؤکل ولو وھبه بعضه رجع بالباقی فلو کان الثمن الفاً فوھب له النصف الآخر لا یرجع الوکیل علی الآمر إلا بخمسمائة الأخری، لأن الأولیٰ ھبة والثانیة حط ، وھذہ المسئلة مبنیة علی ما تقدم فی البیوع أن ھبة بعض الثمن حط لا ھبةکله لأن الحط یلتحق بأصل البیع وفی حط البعض اھ (۴/ ۴۷۸)۔