گناہ و ناجائز

کسی مسلمان کے لئے غیر مسلم ملک کی شہریت کا حلف اٹھانے کاحکم

فتوی نمبر :
3162
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

کسی مسلمان کے لئے غیر مسلم ملک کی شہریت کا حلف اٹھانے کاحکم

محترم جناب مفتی صاحب السلام علیکم!
ایک مسلمان کے لئے درجِ ذیل الفاظ کے ساتھ شہریت کا حلف اٹھانا ( عہدو پیمان ) جائز ہے ؟ میرے خیال میں ایک سچا مسلمان جو اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سچا مطیع و فرمان بردار ہو وہ ایک غیر مسلم کی اطاعت نہیں کر سکتا ،وہ بھی جو امت مسلمہ کے خلاف برسر پیکار ہو ( حالتِ جنگ میں ہو)؟
الفاظ حلف یوں ہیں کہ ’’ میں حلف اٹھاتا ہوں اس بات کا کہ آنجہانی ملکہ الزبتھ دوئم جو کینیڈا کی ملکہ ہیں کی وفاداری اور سچی اطاعت کا ثبوت دوں گا، اور ان کے حقوق اور کاموں کو ، نیز یہ کہ میں کنیڈا کے ملکی قوانین کو بجالاؤں گا اور ایک کنیڈین شہری کی حیثیت سے میری ذمہ داریاں پوری کروں گا۔
واضح ہو کہ کینیڈا کی فوج افغانستان اور مسلمانوں کےخلاف لڑ ر ہی ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ اطاعت بالذات تو صرف اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے، البتہ ملکی قوانین کے اعتبار سے اگر کوئی ملک میں آنے والے شخص پر اپنے سر براہ مملکت کی اطاعت کو لازم قرار دینے کا عہد لیتے ہوں ،اور اس سے مقصود فقط ملکی نظام اور قوانین کی اطاعت ہو ،مذہبی اور مسلکی اطاعت مراد نہ ہو تو اس صورت میں بھی اس ملک کے صرف ان قوانین کی اتباع لازم ہے ،جو کسی امرِ شرعی سے متصادم نہ ہوں یا مباح امرکی حیثیت رکھتے ہوں۔

مأخَذُ الفَتوی

ففي صحيح البخاري: عن عبد الله رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: «السمع والطاعة على المرء المسلم فيما أحب وكره، ما لم يؤمر بمعصية، فإذا أمر بمعصية فلا سمع ولا طاعة» اھ (9/ 63)۔
و في فتح فتح الباري لابن حجر: قوله فإذا أمر بمعصية فلا سمع ولا طاعة أي لا يجب ذلك بل يحرم على من كان قادرا على الامتناع اھ (9/ 216)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 3162کی تصدیق کریں
0     502
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات