کیا دور حاضر میں تمام قانونی ضروریات جیسے لائسنس، پرمٹ وغیرہ کیساتھ اسلحہ رکھنا ایک یا ایک سے زیادہ، اس کو صحیح طور پر چلانا سیکھنا، غلط استعمال (ہوائی فائرنگ وغیرہ) سے بچتے ہوئے شوٹنگ ریج پر مشق وغیرہ کرنا شریعت کے مطابق کیسا ہے؟ اگر یہ درجِ ذیل وجوہات ہوں:
پہلے تو ذاتی شوق ہو، پھر شہر کے حالات اور اپنی حفاظت کے نظریے سے رکھا ہو، پھر جب علم ہوا کہ جہاد کی نیت سے رکھنا اور سیکھنا بہت افضل ہے تو اس کی بھی نیت کی اور دعا کی کہ اللہ یہی نیت کی توفیق دے، اب کچھ لوگ کہیں: نہیں یہ تو آپ کا شوق ہے، اور آپ فضیلت کی آڑ اس بہانے کو استعمال کرکے شوق پورا کر رہے ہیں، اور اب تو شہر کے حالات بھی بہتر ہیں، تو کوئی جواز نہیں، براہِ مہربانی رہنمائی فرمائیں؟
مذکور نیتوں سے اسلحہ رکھنے میں ان شااللہ ثواب ہوگا، اگرچہ ابھی وہ حالات نہ بھی رہے ہوں۔
کما فی صحیح البخاری: عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم: «جعل رزقي تحت ظل رمحي، وجعل الذلة والصغار على من خالف أمري»الحدیث (ج4 صـ40 ط: دار طوق النجاۃ)۔
وفیہ ایضاً: عن سلمة بن الأكوع رضي الله عنه، قال: مر النبي صلى الله عليه وسلم على نفر من أسلم ينتضلون، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ارموا بني إسماعيل، فإن أباكم كان راميا ارموا، وأنا مع بني فلان» قال: فأمسك أحد الفريقين بأيديهم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ما لكم لا ترمون». فقالوا: يا رسول الله نرمي وأنت معهم، قال: «ارموا وأنا معكم كلكم» الحدیث (ج4 صـ147 ط: دار طوق النجاۃ)۔
وفی صحیح مسلم: عن أبي علي ثمامة بن شفي، أنه سمع عقبة بن عامر، يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو على المنبر، يقول: " {وأعدوا لهم ما استطعتم من قوة} [الأنفال: 60]، ألا إن القوة الرمي، ألا إن القوة الرمي، ألا إن القوة الرمي " الحدیث (ج3 صـ1522 ط: دار احیاء التراث العربی)۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے آپسی معاملات کو بیان کرتے ہوۓ ان کے لۓ نامناسب الفاظ استعمال کرنا
یونیکوڈ ثواب والے اعمال 0