گناہ و ناجائز

مسلم ڈاکٹر کا شمشان کیے جانے والے مردے کے معائنے میں شرکت کرنا

فتوی نمبر :
31117
| تاریخ :
2017-07-16
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

مسلم ڈاکٹر کا شمشان کیے جانے والے مردے کے معائنے میں شرکت کرنا

معزز مفتی صاحب السلام علیکم! سب سے پہلے تو میں اپنے سوال کا پس منظر واضح کروں گا UK میں عام معمول کے مطابق جب غیر مسلموں میں سے کوئی شخص مرتا ہے تو اس کے جسم کو جلادیا جاتا ہےاور اس عمل کو شمشان کہا جاتا ہے، اس کے برعکس دفن اور تدفین شمشان سے بہت زیادہ مہنگا ہے، جسم کو جلانے سے پہلے دو ڈاکٹر مردے کے جنازہ گاہ میں جاتے ہیں، (یعنی مردہ خانے میں) ان میں سے پہلا ڈاکٹر اس بات کی شناخت کرتا ہے کہ یہ آدمی جو شمشان جارہا ہے یہ اچھا ہےکیا، وہ شمشان فارم پُر کرنے کی وجہ لکھتا ہے یہ وہ ڈاکٹر ہوتا ہے کہ جس نے آخری آیام میں یا تو اس مریض کا علاج کیا ہو یا اس کو زندگی میں جانتا ہو، قانون کے مطابق جہاں بھی اس کا مریض مرتا ہو اس ڈاکٹر کو یہ کام لازمی کرنا ہوتا ہے، دوسرا ڈاکٹر وہ ہوتا ہے جو مختلف اور غیر متعلقہ ہوتا ہےاور یہ کوئی بھی ڈاکٹر ہوسکتا ہے، اس کی نوکری یہ ہوتی ہے کہ وہ نرس سے بات کرے یا ڈاکٹروں سے یا مریض کے گھر کے افراد سے بات کرے جو اس مریض کا علاج کررہے تھے مریض کے آخری ایام میں اور تمام تفصیل کنفرم کرلیتا ہےاور فارم پُر کرکے لکھتا ہے کہ یہاں کوئی شبہ اور مجرمانہ صورتحال نہیں ہے جو موت کا سبب بنتی ہو، اور یہ ہر ڈاکٹر کرتا ہے، UK میں , اس کا جہاں سے بھی تعلق ہو اگر ڈاکٹر اس کام کو نہیں کرنا چاہتا ہو تو اس کو اس کام سے نکال دیا جاتا ہے ، دونوں ڈاکٹروں کا{GBP 80} ادا ہوجاتی ہے اگر وہ زیادہ کام کریں۔
میرا سوال اس کام کو مکمل کرنے کے بعد یہ ہے کہ اسلام میں تو جسم کو آگ کے ذریعے جلانا حرام ہے تو کیا ڈاکٹر کیلئے یہ کام کرنا حلال ہے؟ جبکہ پہلے والے ڈاکٹر کی یہ قانونی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ انکار نہیں کرسکتا ہے، جبکہ دوسرے والے ڈاکٹر کی اپنی پسند کا معاملہ ہوتا ہے اگر وہ زیادہ پیسہ کمانا چاہتا ہے, تو کیا یہ پیسے حلال ہوں گے؟ اب اگر یہ پیسے حلال نہیں ہیں تو آدمی کو ان پیسوں کے ساتھ کیا کرنا چاہئے؟ جو اس نے اس کام کے ذریعے سے کئی سالوں سے کمائے ہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مسلم ڈاکٹر کےلیے غیر مسلم کا علاج معالجہ کرنا اور اس کے متعلق مختلف قسم کی معلومات حاصل کرنا جائز اور درست ہے اور اس پر جو تنخواہ ملتی ہے وہ بھی حلال ہےتاہم بصورت مسئولہ یہ اس وہ وقت جائزہوگاجب وہ نہ خود جلائیں اور نہ ہی جلانے کیلئے ساتھ جائیں، نیز اس عمل سے اسلام اور مسلمانوں کی توہین کا کوئی پہلو بھی نہ نکلتا ہو۔

مأخَذُ الفَتوی

عن ابی سعید خدریؓ إنّ رھطًا من اصحاب النبی ﷺ إنطلقوا فی سفرة سافروھا فنزلوا بحي من احیاء العرب فقال بعضھم إنّ سیدنا لُدِغَ فھل عند احدکم منکم شییٔ ینفع صاحبنا فقال رجلٌ من القوم نعم واللہ إنّی لأرقی ..... الی (قولہ) ما أنا براق حتی تجعلوا لی جعلًا، فجعلوا لہ قطیعًا من الشاء فاتاہ فقرء علیہ ام الکتاب ویتفل حتی برء. الخ (ابو داؤد: ج۲، ص۱۸۸، حدیث: ۳۹۰۲)
وفی خلاصة الفتاویٰ: المسلم إذا آجر نفسہ من الکافر لیخدمہ جاز ویکرہ قال الفضلی لا یجوز فی الخدمة وما فیہ اضلال بخلاف الزراعة والسقی. (ج۳، ص۱۴۹)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد اسلم غوث عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 31117کی تصدیق کریں
0     582
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات