میں ایک محقق ہوں، ایڈیٹیو مینوفیکچرنگ فیلڈ ادارے میں تحقیق کرنے کیلئے مجھے تحقیقی کا غذات کی ضرورت پڑتی ہے، اکثر تحقیقی کا غذات پہلے سے موجود ہوتے ہیں ، اور پاکستان میں بلا معاوضہ ان تک رسائی نہیں ہو سکتی، جبکہ باہر کی یونیورسٹیز میں اُن کا غذات تک رسائی ہو سکتی ہے، اور یہ یونیورسٹیاں محققین کو ان کا غذات تک رسائی کیلئے ایک ای ڈی پاسورڈ فراہم کرتی ہیں، لیکن پاکستان میں یہ سروس مہیا نہیں ہے ، میں نے ان کا غذات تک رسائی کیلئے، ایک طریقہ تلاش کر لیا ہے، لیکن یہ طریقہ مغربی قانون کی رو سے غیر قانونی ہے اور کچھ مخصوص ایجنسیاں اکثر لوگ بھی ایکشن لیتی ہیں، اگر کوئی غیر قانونی طریقے استعمال کرے، لیکن پاکستان میں غیر قانونی طریقے سے وہاں تک رسائی حاصل کرتے ہیں، میں بھی تحقیقی کا غذات تک رسائی کیلئے غیر قانونی طریقہ اختیار کرتا ہوں ،تحقیقی کاغذ توڑنے ہوتے ہیں ، میں ایک ہفتے میں ایک سے لیکر پندرہ تک تحقیقی کا غذات پڑھتا ہوں ، ایک کاغذ کی قیمت " 5000 سے لیکر10000 ہزار روپے تک ہے، اسی وجہ سے میرے لئے ان کا غذات کو خریدنا ممکن نہیں ہے ، کیا میں اس غیر قانونی طریقے سے ان کا غذات تک رسائی حاصل کیا کروں ؟ کیونکہ میرے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے؟
جس ملک میں یہ قانون ہو تو وہاں ادارے کی اجازت کے بغیر خفیہ طور پر نیٹ کے ذریعے مذکورہ کا غذات حاصل کرنا جائز نہیں ، اور اس میں بلا اجازت تصرف کرنا یقیناً حق تلفی اور گناہ ہے، مگر پاکستان وغیرہ جن ممالک میں یہ پابندی نہیں ہے، وہاں قانون نہ ہونے کی وجہ سے اس کی خلاف ورزی کا گناہ بھی نہیں ۔
ففي مشكاة المصابيح: عن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ألا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه". رواه البيهقي في شعب الإيمان والدارقطني في المجتبى (2/ 165)۔
وفي شرح المجلة: لا يجوز لأحد أن يتصرف في مال الغير بلا اذينه اھ (۱/۲۶)
وفيه أيضاً: المباشر ضامن وإن لم يعتمد اھ (۱/ ۱۵۵)۔