گناہ و ناجائز

کسٹم حکام کو اضافی فیس دیکر اپنا مال چھڑوانے کاحکم

فتوی نمبر :
30540
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

کسٹم حکام کو اضافی فیس دیکر اپنا مال چھڑوانے کاحکم

السلام علیکم !
میں پاکستان کے کسٹم کلیئرنگ اینڈ فارورڈنگ ایجنسی بزنس کے متعلق پوچھنا چاہتا ہوں ، ایک کلیئر ایجنٹ کے طور پر ہم درآمد کرنے والے اور حکومت کے بیچ مڈل مین ہوتے ہیں، ہمارا کام درآمد شدہ اشیاء پاکستان کسٹم سے دلوانا ہوتا ہے،درآمد کرنے والے کی نیت اور ہماری نیت صاف اور حلال کمائی کی ہی ہوتی ہے، لیکن کسٹم حکام بغیر اضافی ادائیگی کے کام نہیں کرتے۔ جس کو وہ لوگ فیس کہتے ہیں ، اگر ہم ان کوا اضافی فیس کی ادائیگی نہ کریں ،تو وہ یا تو کام نہیں کریں گے ،یا ہمارے کام کو مؤخر کر دیتے ہیں، جس کا نتیجہ درآمد کرنے والے کو بہت بڑے نقصان کی صورت میں ہوتا ہے ۔ ہم یہ اضافی فیس در آمد کرنے والے کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں، میرے والد صاحب پوری زندگی یہی کاروبار کرتے ہیں، وہ مجھے اپنے ساتھ لگانا چاہتے ہیں ، پورا خاندان اپنے والد صاحب کے ساتھ نہ لگنے اور ان کی مدد نہ کرنے کی وجہ سے مجھے برا بھلا کہتا ہے ۔ برائے مہربانی میری رہنمائی فرمائیں ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

کسٹم حکام اگر اضافی فیس لیے بغیر کام نہ کرتے ہوں، جس سے درآمد کرنے والے کو نقصان ہونے کا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں اضافی فیس دیکر اپنا مال چھڑانے کی در آمد کرنے والے کیلئے گنجائش ہے، لیکن اضافی فیس لینے والے حکام کیلئے یہ رشوت اور حرام ہے جس سے انہیں اجتناب اور اس طرح لی ہوئی رقم متعلقہ لوگوں کو واپس کرنا لازم ہے ۔ جبکہ اس معاملہ میں ایجنٹ بننے والے کا اس میں کوئی کردار سوائے ایجنٹ بننے کے نہیں، اس لئے اس کی کمائی حلال اور جائز ہے، لہذا سائل بھی اپنے والد کی طرح بطور ایجنٹ کام کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

وفي مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح: (وعن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما) : بالواو (قال: «لعن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - الراشي والمرتشي» ) : أي: معطي الرشوة وآخذها، وهى الوصلة إلى الحاجة بالمصانعة، وأصله من الرشاء الذي يتوصل به إلى الماء، قيل: الرشوة ما يعطى لإبطال حق، أو لإحقاق باطل، أما إذا أعطى ليتوصل به إلى حق، أو ليدفع به عن نفسه ظلما فلا بأس به، وكذا الآخذ إذا أخذ ليسعى في إصابة صاحب الحق فلا بأس به، لكن هذا ينبغي أن يكون في غير القضاة والولاة ; لأن السعي في إصابة الحق إلى مستحقه اھ (6/ 2437)۔
وفي حاشية ابن عابدين: الرشوة بالكسر ما يعطيه الشخص الحاكم وغيره ليحكم له أو يحمله على ما يريد، جمعها رشا مثل سدرة وسدر، والضم لغة وجمعها رشا بالضم اهـ وفيه البرطيل بكسر الباء الرشوة وفتح الباء عامي.وفي الفتح: ثم الرشوة أربعة أقسام: منها ما هو حرام على الآخذ والمعطي وهو الرشوة على تقليد القضاء والإمارة. (5/ 362) -

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمدہاشم عالم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 30540کی تصدیق کریں
0     549
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات