میں اپنے ماضی سے توبہ کرنا چاہتا ہوں مگر کچھ اعمال ایسے ہیں ، جن کے بارے میں میں نہیں جانتا کہ ان کی توبہ کیسے کی جائے۔ ۱۔ کسی کا قرض دینا ہو اور بندہ بھول جائے کہ کس کو دینا ہے اور کتنا دینا ہے؟
۲۔ بندہ امامت کرتا ہو اور ناپاکی کی حالت میں ،اب وہ توبہ تائب ہونا چاہتا ہے، مگر نمازی یاد نہیں کہ کون تھے ؟ اب کیا کرے؟
۳۔ قضاء نمازیں اور روزے یاد نہیں کہ کتنے قضاء ہیں ان کا کیا کیا جائے؟
۴۔ سود کا کوئی کفارہ ہے؟ ماضی میں مجبوری کی حالت میں سود دیتا تھا۔
مالی حقوق کے سلسلہ میں حکمِ شرعی یہ ہے کہ اصل مالک کو اس کا حق لوٹایا جائے، اگر مالک کا علم نہ ہو سکے یا نہ مل سکے تو اس کے ورثاء کو وہ حق ادا کرنا لازم ہے، یہ بھی ممکن نہ ہو جیسے آدمی بالکل ہی بھول جائے کہ کس کو قرضہ لوٹانا ہے اور مقدار بھی بھول جائے کہ کتنا لوٹانا ہے تو ایسی صورتحال میں غالب اندازے کے مطابق جتنی مقدار بنتی ہے وہ مالک کی طرف سے صدقہ کی نیت سے کسی مستحق کو دیدے، تاہم بعد میں اگر مالک مل جائے اور وہ اپنا قرضہ لینا چاہے تو پھر اس کا قرضہ ادا کرنا شرعاً لازم ہوگا۔ ٭
جس قدر ممکن ہو مقتدیوں کو اطلاع کرنا ضروری ہے تاکہ وہ اپنی نمازیں لوٹائیں، اور اگر پوری کوشش کے باوجود کوئی مقتدی ایسا رہ گیا کہ جسے خبر نہ ہوئی تو ان شاء اللہ اس سے مواخذہ نہ ہوگا اور حتی الوسع کوشش کی وجہ سے سائل سے بھی مواخذہ نہ ہوگا، جبکہ قضاء نمازوں اور روزوں کا حکم یہ ہے کہ ان کا محتاط اندازہ لگا کر ادا کرنا شروع کرے پھر جب اطمینان ہو جائے کہ اب میرے ذمہ کوئی نماز اور روزہ نہیں رہا ہوگاتو بس کرے۔ ٭
جتنی رقم سود کی مد میں لی ہے اتنی رقم اصل مالکان کو واپس کرنا لازم ہے، اگر مالک معلوم نہ ہوں تو ان کی طرف سے اتنی رقم کا صدقہ اور آئندہ کے لیے سچے دل سے توبہ و استغفار بھی لازم ہے۔ ٭
٭ففی الدر المختار: (فإن أشهد عليه وعرف إلى أن علم أن صاحبها لا يطلبها أو أنها تفسد إن بقيت كالأطعمةكانت أمانة) لم تضمن بلا تعد (إلی قولہ) ولو من الحرم أو قليلة أو كثيرة فينتفع بها لو فقيرا وإلا تصدق بها على فقير)(4/ 279)
٭وفی الدر المختار: (كما يلزم الإمام إخبار القوم إذا أمهم وهو محدث أو جنب) أو فاقد شرط أو ركن. وهل عليهم إعادتها إن عدلا، نعم وإلا ندبت، وقيل لا لفسقه باعترافه؛ ولو زعم أنه كافر لم يقبل منه لأن الصلاة دليل الإسلام وأجبر عليه (بالقدر الممكن) بلسانه أو (بكتاب أو رسول على الأصح) (1/ 592)
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله لكونه عن خطأ معفو عنه) أي لأنه لم يتعمد ذلك فصلاته غير صحيحة ويلزمه فعلها ثانيا لعلمه بالمفسد. وأما صلاتهم فإنها وإن لم تصح أيضا، لكن لا يلزمهم إعادتها لعدم علمهم ولا يلزمه إخبارهم لعدم تعمده فافهم (1/ 592)
وفی حاشیۃ الطحطاوی: من لایدری کمیۃ الفوائت یعمل بأکثر رأیہ فإن لم یکن لہ رأی یقض حتی یتقین أنہ لم یبق علیہ شئی (ص:۴۴۸)
٭وفی سنن ابن ماجه: عن أبي عبيدة بن عبد الله، عن أبيه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «التائب من الذنب، كمن لا ذنب له» اھ(2/ 1419) واللہ أعلم بالصواب!