گناہ و ناجائز

ہاؤس فائینانس کے نام پر بینکوں سے ملنے والا لون کا حکم

فتوی نمبر :
30267
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

ہاؤس فائینانس کے نام پر بینکوں سے ملنے والا لون کا حکم

السلام علیکم !
مجھے یہ معلوم کرنا تھا کہ کیا ہاؤس بلڈنگ لون جو ملتا ہے، وہ جائز ہے یا ناجائز؟ اور اسلام میں اس کی کیا اہمیت ہے، کیا پلاٹ خرید کر ہاؤس لون لے کر اسے تعمیر کر سکتے ہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

ہاؤس فائینانس کے نام پر بینکوں سے ملنے والا لون (قرض ) عموماً سود پر مشتمل ہوتا ہے، اور سود لینا دینا دونوں حرام ہے، جس کی قطعاً گنجائش نہیں ،اور اس سے احتراز لازم ہے۔ البتہ مکان کی تعمیر کے سلسلے میں اسلامی بینکوں (المیزان وغیرہ) سے رابطہ کیا جا سکتا ہے ،جہاں مستند علماءِ کرام پر مشتمل شریعہ بورڈ کی نگرانی میں شرعی طریقہ کار کے مطابق معاملات انجام دیے جاتے ہیں۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمدعبداللہ محمود عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 30267کی تصدیق کریں
0     405
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات